خوردوپن پاس کی تاریخ اور روٹ – پہلی قسط

Published By Mobeen Mazhar

پہلی قسط

تحریر: محمد عبدہ

Khurdopin Pass Crossings History Map

(Khurdopin Pass Crossings History Map – Snow Lake, Pakistan) خوردوپن پاس کراس کرنے کی تاریخ
عکاسی اور نقشہ: محمد عبدہ

تاریخ

خوردوپن پاس کو تاریخ میں سب سےپہلے 1986 میں کینیڈا کے بیری روبرٹس کیمرون ویک شمبی خان اور رجب شاہ نے کراس  کیا تھا۔ اس پاس کی بلندی 5696 میٹر ہے۔

دوسری بار برطانوی ٹیم نے 1987 میں کراس کیا جب سٹیفن وینی بل، ڈنکن ٹین سٹال، جیری گورے اور فلپ بارلیٹ نے بغیر کسی مقامی پورٹر یا گائیڈ کے خوردوپن کوکراس کیا۔ یہ ٹیم بھی 1986 والے راستے سے گزری تھی۔ 

تیسری بار 1991 میں نیوزی لینڈ کے ڈیو بین فورڈ ، میٹ کومیسکی ، جون کوکس ، جون وائلڈ اور جون نانکروس نے بھی اسی راستے سے خوردوپن پاس کراس کیا۔ 

36° 6’31.26″N, 75°35’14.24″E: طول بلد اور عرض بلد

چوتھی بار 2007 میں بیلجیئم کے جیف ہاؤبن قدرت علی عبدل جوشی اور بلبل کریم نے خوردوپن کو نئے راستے سے کراس کیا۔ یہ پاس خوردوپن گروپ کی 6593 میٹر بلندی والی چوٹی کے بغل میں واقع تھا اس پاس کی بلندی 5682 میٹر تھی۔ اور روبرٹس کیمرون والے راستے سے تقریباً ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر جنوب کی طرف کوئی نیا راستہ تھا۔

36° 6’20.06″N,  75°34’50.55″E :طول بلد اور عرض بلد

پانچویں بار 2017 میں ڈاکٹر احسن کی ٹیم ڈاکٹر محمد احسن اختر۔ شیخ ذیشان۔ محمد نئیر قاسم۔ ڈاکٹر ضیاءالدین۔ شہزاد بٹ۔ محمد عبدہ۔ محمد کاشف۔ (کرنل احسن کیانی بیماری کی وجہ سے واپس آگئے)۔ عبدل جوشی۔ ہدایت۔ منصور۔ ارشد۔ رفایت۔ احسان۔ عارف۔ زمان۔ سعید۔ نثار۔ فریاد۔ اظہار۔ دولت نے شمشال سے سنو لیک کی طرف خوردوپن کو کراس کیا۔

Dr Ahsan Team at Top of Khurdopin Pass 0 SNow Lake, Pakistan

(Group Photo at Khurdopin Pass – Snow Lake, Pakistan) خوردوپن پاس پر گروپ فوٹو
عکاسی: محمد عبدہ

اور عمر جاوید کی ٹیم مظہر فرید۔ آصف پیرو۔ شہروز۔ خالد محمود۔ اختر جاوید۔ جوہان۔ بلبل کریم۔ ثابت جوشی۔ آفرین۔ سعید خان۔ مرتضی۔ عطا کریم۔ ایمان الله صوفیہ بیگ اعجاز کریم نے سنو لیک سے شمشال کی طرف سے خوردوپن پاس کے نئے اور تیسرے راستے سے کراس کیا۔

Omar Javaid's Team at Khurdopin Pass

(Group Photo at Khurdopin Pass – Snow Lake, Pakistan) خوردوپن پاس پر گروپ فوٹو
عکاسی: عمر جاوید

اس پاس کی اونچائی 5759 میٹر ہے۔

 36° 6’9.16″N, 75°34’38.41″E :طول بلد اور عرض بلد 

روٹ

1986 میں کراس ہونے والا پاس خوردوپن گلیشئیر کی ایک شاخ ایسٹ خوردوپن گلیشیئر کی انتہائی مشرقی جانب واقع ہے۔ یہ پاس تین بار 1986 , 1987 اور 1991 میں کراس ہوا ہے۔ 2007 والا پاس پہلے پاس سے تقریباً ایک کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ ان دونوں پاس کے درمیان 6593 اور 6140 میٹر کی دو چوٹیاں واقع ہیں۔ 2017 میں کراس ہونے والا پاس 2007 والے پاس سے 400 میٹر مزید جنوب میں واقع ہے۔ ان دونوں پاس کے درمیان میں 6290 میٹر کی ایک چوٹی واقع ہے۔ تینوں پاس کا بیس کیمپ ایک ہی ہے جبکہ ایڈوانس بیس کیمپ سے ٹاپ تک جانے کے راستے اور ٹاپ سے اترنے کے راستے علیحدہ علیحدہ ہیں۔

Khurdopin Pass Crossing Routes 2007 and 2017

(Khurdopin Pass Crossing Routes 2007 – Red and 2017 – Blue) خوردوپن پاس کراس کرنے کے 2007 اور 2017 کے روٹ
نقشہ: محمد عبدہ

Broader View of Khurdopin Pass Crossing Between Snow Lake and Qudrat Camp

(Broader View of Khurdopin Pass Crossing Between Snow Lake and Qudrat Camp)  سنو لیک اور قدرت کیمپ کے درمیان خوردوپن پاس کراس کرنے کا روٹ
نقشہ: محمد عبدہ

Khurdopin Pass Route and Khurdopin Glacier

(Khurdopin Pass Route and Khurdopin Glacier)  خوردوپن پاس روٹ اور خوردوپن گلیشیر
نقشہ: محمد عبدہ

Khurdopin Glacier and Shimshal Village

(Khurdopin Glacier and Shimshal Village) خوردوپن گلیشیر اور شمشال گاؤں
نقشہ: محمد عبدہ

نوٹ۔ اس مضمون کی دوسری قسط میں خوردوپن پاس مہم کی تیاریوں اور تیسری قسط میں تاریخ و روٹ کی مکمل تفصیل کے علاوہ خوردوپن ویسٹ خوردوپن اور ایسٹ خوردوپن گلیشئیر کا جغرافیہ خدوخال خوردوپن گروپ کی تمام چوٹیوں اور ویسٹ و ایسٹ خوردوپن گلیشئیر پر واقع تمام پاسز کی تفصیل شامل ہوگی۔

مصنف کے بارے میں

محمد عبدہ 

محمد عبدہ کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور ابھی کوریا میں قیام پذیر ہیں۔ ٹورزم میں بیس سال سے ہیں اور ٹورزم کی ایک چھوٹی سی کمپنی “انڈس کوریا ٹورز” چلا رہے ہیں۔ پاکستان کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے ٹریک کر چکے ہیں۔ سیاحت ٹریک اور تاریخ پر بلاگز لکھتے ہیں اور تین کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

قراقرم کہانی کے لیے لکھیے

Contact Us

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search