گنگا پِیک مہم – حصہ آخر

Published By Mobeen Mazhar

دوسری اور آخری قسط

زمانہ : 24 / 25 مئی 2017
ایام : گوتم بدھ / جمعرات شبِ برات
تحریر : مسافرِشَب
•••

مَیں نے آنکھیں ملتے ہوئے اُسے کہا “اوئے تُم سوتے نہیں ہو؟”

جامنی سلیپنگ بیگ میں گھسے ہوئے، رات کے کسی پہر جب میری آنکھ کھلی تھی اور مَیں نے کمرے کی دونوں کھڑکیوں میں نئی دنیائیں دیکھی تھیں تب میری آنکھ دوبارہ لگ گئی تھی. عجب کھڑکیاں تھیں، جیسے محبوب کی دو آنکھیں ہوں اور شَب کے اندھیر پہروں میں اُن آنکھوں میں تیرے لیے کچھ ہو. ایک آنکھ میں گنگا تھی، دوسری آنکھ میں آکاش گنگا تھی.. بس جی کائنات کی باتیں ہیں..

جب الارم بجنے پر دوبارہ آنکھ کھلی تو صبح ہو چکی تھی.. ساڑھے پانچ بج رہے تھے.. سمجھ ہی نہیں آئی کہ مَیں کہاں ہوں.. رئیس امروہی کی روح نے سرگوشی کی:

..یہی ہے تقاضائے شعر و شباب

..سوئے شہرِ مہتاب و مے خانہ چل

مَیں نے کہا “ہیں؟”.. جواب ندارد..

ایک کھڑکی میں جو جنگل نظر آ رہا تھا اُس کے بھید بھرے اندھیرے ابھی قائم تھے.. دوسری کھڑکی میں گنگا پِیک کے پیچھے ایک آگ سی لگی ہوئی تھی. تب مجھے یاد آیا کہ اچھا سدھن گلی ہے اور ہم گنگا لینے آئے ہیں.

ایک کُتا کھڑکی کے عین سامنے ضرورت سے زیادہ کھڑا ہو کر مجھے دیکھ رہا تھا. مَیں نے بحالتِ نیند اُس سے پوچھا “اوئے تُم سوتے نہیں؟”

کُتے نے مجھے جس نظر سے دیکھا، یقیناً وہ ایک لُوسی کُتا تھا. ایک ہی نظر میں وہ جو کچھ کہہ گیا اُسے بلھے شاہ نے پاجامۂ الفاظ پہنا کر صدا لگائی…

..راتیں جاگیں کریں عبادت

..راتیں جاگن کُتے

..تیتھوں اُتے

..خصم اپنے دا، در نہ چھڈدے

..بھانویں وجن جُتے

..تیتھوں اتے

..بلھیا چل یار منا لے

..نئیں تے بازی لے گئے کتے

..تیتھوں اتے

مطلب یہ کہ کُتے شَب بیداری کرتے ہیں اور تُم سوتے رہتے ہو، کُتے تم سے بہتر ہیں. بھلے اُن کو جوتے پڑیں، پھر بھی اپنے مالک کے وفادار رہتے ہیں، کتے تم سے بہتر ہیں. چل بلھیا اپنے ناراض دوست کو منا لے ورنہ کتے پھر تم پر بازی لے جائیں گے…

یہ تمام گفتگو اس لیے ممکن ہوئی کیونکہ مَیں نیم غنودگی میں تھا. مکمل ہوش ہوتا تو اپنے علاوہ کائنات کی باقی ہر شے کے جذبات کا انکار کر دیتا. ویسے اب زیادہ تر انسانوں کے جذبات بھی کہاں رہے ہیں. مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے یا میرے نوٹ ویکھ تیرا موڈ بنے کی گیم ہے.

اور ہاں، مذکورہ بالا گفتگو میں صرف چار عدد ٹانگوں اور ایک عدد دُم والے کتوں کی بات ہو رہی ہے. ٹانگیں کم کر کے دم ہٹا دیں تو کتا خراب ہو جاتا ہے اور کتے کے علاوہ وہ کمینہ بھی ہو جاتا ہے. ایسے کتوں سے بچنا چاہیے اگر حالات اجازت دیں.. ورنہ کم از کم اُنہیں دل میں ضرور برا کہیں.

•••

میرا الارم بجے ابھی پانچ منٹ ہی ہوئے تھے کہ کمرے میں مزید الارم بجنا شروع ہو گئے. ڈاکٹرز اور فارماسوٹیکل بزنس والے خرم بھائی رفتہ رفتہ جاگ گئے اور تیاری پکڑنے لگے. ہماری ٹیم میں “تیاری” اس وقت واحد صنفِ نازک تھی جسے پکڑا جا رہا تھا.

ڈائننگ روم کی کھڑکیوں کے پردے ہٹے ہوئے تھے اور ایک خوشگوار ٹھنڈک سے لبریز روشنی ناشتے کی میز پر پڑ رہی تھی. انڈہ ڈبل اور چائے کھاتے پیتے ہوئے مَیں نے کچھ تفصیل خرگوش گزار کی “ہم 7.5 ہزار فٹ بلند سدھن گلی سے شروع ہو کر 7 کلومیٹر پیدل چلیں گے اور پھر اس کے بعد مزید 3 کلومیٹر دوبارہ پیدل چلیں گے اور 10.3 ہزار فٹ تک پہنچیں گے.” احباب کے چہروں پر جو جائز کیفیات ابھریں تو مَیں نے مزید تفصیل سنائی “7 کلومیٹر جیپ ٹریک ہے اور باقی تین کلومیٹر پیدل ٹریک ہے. مکشپوری ٹریک سے مشکل ہے اور میرانجانی ٹریک سے آسان ہے.”

Ganga Peak Information

(Ganga Peak Information – Sudhan Gali, Azad Kashmir, Pakistan) گنگا پیک جانے والی سڑک پر انفورمیشن
عکاسی: ڈاکٹر شہباز

سدھیر نے ہمارے پلان پر ماتم کرتے ہوئے کہا کہ “خدا کے بندو! جیپ کے ذریعے جیپ پوائنٹ تک چلے جاؤ، آگے گھنٹہ لگا کر ٹاپ پر پہنچ جانا. جو کام 4 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں ہو سکتا ہے آپ لوگ اس پر پورا دن کیوں لگاتے ہو؟ کون لوگ ہو تُم..”

مَیں نے پڑھی لکھی مگر نازک مزاج خواتین کی طرح کہا “بس.. تُم نہیں سمجھ سکتے ہمیں….”

ہم اصل میں پیدل چلنا چاہتے تھے.. خاموشی کو انجوائے کرنا چاہتے تھے.. پتہ پتہ بوٹا بوٹا دیکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے تھے.. مقامی بچوں کی حیرت زدہ آنکھوں میں زیادہ لمحات زندہ رہنا چاہتے تھے.. ہر آن بدلتے موسموں کو براہِ راست جسم پر محسوس کرنا چاہتے تھے.. اور کسی غیرمتوقع کی تلاش میں رہنا چاہتے تھے.. الغرض کھیر کو ٹھنڈا کر کے کھانا چاہتے تھے. یہ سب کچھ پلک جھپکتے منزل پر پہنچ جانے والی جیپ میں ممکن نہیں ہوتا. مگر خیر، یہ بات ہر کسی کی سمجھ میں آنے والی نہیں.. خاص کر مقامی تو ہرگز نہ سمجھیں گے جبکہ اُن کا معاشی نقصان بھی ہو رہا ہو.

..شُتر بانِ لیلیٰ کو زحمت نہ دے

..رہِ شوق میں بے حجابانہ چل

ہم نے ریسٹ ہاؤس کے آغاز میں گروپ فوٹو بنوائی اور دو چار کتے دائیں بائیں کھسکا کر اُس چوک میں آ گئے جہاں بائے-پاس روڈ اصل سدھن گلی روڈ میں شامل ہو جاتی ہے اور یہیں سے ایک سڑک اوپر گنگا پِیک بیس کیمپ کو جاتی ہے. وہاں بھی ہمیں ایک مقامی سے واسطہ پڑا جو ہمیں جیپ کی آفر دے رہا تھا. لمبی گفتگو کو مختصر کیا جائے تو مذکورہ ذیل صورتحال بنے گی:

“پیدل جاواں گے..”

“پاغل ای اوئے..”

بہرحال ہم سڑک پر بلند ہوتے گئے. موسم گرم ہونا شروع ہوا. دھوپ بڑھتی جا رہی تھی. بارش کا نام و نشان نہ تھا…. مگر یہ سب حالات تو پچھلی بار بھی تھے جب آغاز میں تو بڑی دھوپ تھی مگر بعد میں ہم نے چوٹی پر برف باری، ژالہ باری، گولہ باری، بُوہے باری اور برق باری کو اپنے بدنوں پر سہا تھا.

گزشتہ کل کی کوبرا پیک مہم کے دوران مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ اگرچہ ٹیم ممبرز نے اس سے پہلے کبھی باقاعدہ ٹریکنگ نہیں کی تھی مگر وہ کافی بہتر چل سکتے ہیں، انہیں صرف تھپکیاں دینے کی ضرورت ہے.

دورانِ پیدل پرواز مَیں نے شہباز شریف اور شہزادہ خرم کو نصیحت کی کہ “آپ سب کا پہلا پہلا لمبا ٹریک ہے، اگر دورانِ ٹریک کچھ بھی طبی یا نفسانی، سوری، نفسیاتی مسئلہ ہوا تو مجھے فوراً بتائیے گا، میرے پاس سوائے اپنے غموں کے باقی سب کے غموں کا علاج موجود ہوتا ہے، آگے تو کوئی ڈاکٹر بھی نہیں ملے گا.” ممبرز کی ہنسی سے یاد آیا کہ آہا، یہ تو خود پروفیشنل ڈاکٹرز اور فارماسوٹیکلز کی ٹیم ہے.. یاد رہے کہ فارما والے ہی تو ڈاکٹرز کو گائیڈ کرتے ہیں کہ کونسی ادویات ریکمنڈ کرنی ہیں. میرا خیال ہے کہ سوائے گائنی کے، ٹیم ہر قسم کی ادویات سے لبریز تھی.

میٹلڈ سڑک پر اسی طرح بلندی شروع ہو گئی جیسے ڈونگاگلی سے مکشپوری جائیں تو ایک ڈیڑھ کلومیٹر میٹلڈ سڑک پر بلندی شروع ہوتی ہے.. اور عموماً پورے ٹریک کی سب سے مشکل چڑھائی یہی ہوتی ہے. مگر چیڑ کے خوشبودار جنگلات اس چہل قدمی کو بے حد دلکش بناتے ہیں.

ہماری بائیں جانب جو وادی تھی وہ وادئ جہلم تھی کیونکہ وہاں دریائے جہلم تھا جو مقبوضہ سے نکل کر آزاد کشمیر میں آ پہنچتا ہے اور مظفرآباد کی جانب نکل جاتا ہے. سدھن گلی روڈ اسی لیے مظفرآباد جاتی ہے.

ہماری دائیں جانب وادی میں نیچے باغ شہر تھا اور پرے تولی پیر ٹاپ کے کچھ شائبے تھے.

ہمارے سامنے سدھن گلی کا سفید قبرستان تھا جس کی بعض قبروں میں سے جامنی پھول سر اٹھا رہے تھے. یہ جامنی پھول زندہ یا مردہ جسم نہیں دیکھتے، اندر کے حالات دیکھ کر کہیں بھی سر اٹھا لیتے ہیں. ایک سیاہ ماربل کی قبر پر شمس لکھا تھا.. یہ قبرستان مَیں دوسری بار دیکھ رہا تھا مگر جامنی پھول نئے تھے. جانے چند دن قبل یہاں کس نے فاتحہ پڑھی تھی.

بینظیر پیلس کے گیٹ پر وہی لُوسی کتے اونگھ رہے تھے جو ادھر ہی ہوتے ہیں. گیٹ کے قریب سڑک پر ایک بورڈ لگا ہوا ہے جس پر جیپ ٹریک فاصلہ 7 کلومیٹر درج ہے اور یہ بھی کہ قمر الزمان خان نے یہ سڑک اور ٹریک بنوایا ہے. بینظیر پیلس کے علاوہ پی-ڈبلیو-ڈی ریسٹ ہاؤس بھی قمر صاحب نے ہی بنوائے ہیں. معلوم نہیں بطور سیاستدان قمر صاحب ہر وقت عوامی فلاح و بہبود سے متعلق ترقیاتی کام ہی کرتے رہتے ہیں یا کوئی کام وام بھی کرتے ہیں.

مجھے ٹوؤرازم کاٹیجز والے نعیم پر غصہ ہی بہت تھا اس لیے ہم فوراً اس جگہ سے آگے بڑھ گئے. قریب ہی سدھن گلی کا کمیونیکیشن ٹاور نصب تھا جو لوڈ شیڈنگ کے وقت خود بھی ریسٹ کرتا ہے.. گویا سدھن گلی میں موبائل فونز کی لوڈ شیڈنگ بھی ہوتی ہے.

ٹاور سے بلند ہوئے. دو چار چھوٹے چھوٹے سے گھر گزرے. وہاں ایک جیپ سٹارٹ کھڑی تھی. وہ سب پسماندہ سے لگتے مگر گورے چٹے مقامی لوگ کہیں سیر کرنے جا رہے تھے. شاید پنڈی چلے جائیں. اب اپنے علاقے میں سیر تو نہیں ہو سکتی چاہے بیرونی لوگ اُسے جنت بہ روئے زمیں ہی کہتے ہوں.

View toward Bagh City from Ganga Peak Trek - Azad Kashmir, Pakistan

  (View of Bagh City) باغ شہر کی جانب منظر 
عکاسی: خرم سپرا

اچانک.. ایسا لگا جیسے کِھلتا گلاب، جیسے شاعر کا خواب، جیسے اُجلی کِرن، بَن میں ہِرن، جیسے چاندنی رات، جیسے نغمے کی بات، جیسے مندِر میں ہو اِک جلتا دِیا………… یا جیسے صبح کا روپ، جیسے سردی کی دھوپ، جیسے وینا کی تان، جیسے رنگوں کی جان، جیسے بل کھائے بیل، جیسے لہروں کا کھیل، جیسے خوشبو لیے آئے ٹھنڈی ہوا………….. یا جیسے ناچتا مور، جیسے ریشم کی ڈور، جیسے پریوں کا راگ، جیسے صندل کی آگ، جیسے سولہ سنگھار، جیسے رستی پھوار، جیسے آہستہ آہستہ بڑھتا نشہ…..

بس جی کچھ ایسا ہی لگا جب ہم ایک موڑ پر پہنچے جس کے کنارے ایک جھونپڑا تھا اور اس کے بالکل ساتھ ایک کنٹینر کیبن تھا جس پر “ٹرکش ڈسپنسری” لکھا تھا…. اور عین اُسی وقت ایک انجان خوبرو لڑکی کیبن میں سے نکلی.. اُس نے زندگی تنگ کرنے والی تنگ تنگ سی جینز پہن رکھی تھی اور اوپر ہلکا سا سفید کرتہ تھا جس کے اندر بھی کشمیر کے پربتوں کا حُسن تھا..

..نشہ شیشے میں انگڑائی لینے لگا

..بزمِ رنداں میں ساغر کھڑکنے لگے

اُس نے بازو اٹھا کر صبح کی ستھری نکھری فضا میں جماہی لی.. مشرق و مغرب اُس کی مٹھیوں میں سمٹنا شروع ہو گئے.. اُس کے کالی گھٹاؤں جیسے لمبے بال کشمیر کی فضاؤں میں لہرانے لگ گئے اور آب و ہوا کو مشک آور بنانے لگے اور موسموں کو اپنے اختیار میں کرنے لگے….

..کُھلتی زلفوں نے سکھائی

..موسموں کو شاعری

..جھکتی آنکھوں نے بتایا

..مے کشی کیا چیز ہے

تب اُس کی چھٹی حِس نے اُسے احساس دلایا کہ کہیں آس پاس دو مبہوت آنکھیں اُس پر متوجہ ہیں.. اُس نے اپنی بائیں جانب اُن مبہوت آنکھوں کو دیکھا جنہوں نے گزشتہ شَب گنگا اور آکاش گنگا کو بیک وقت دیکھا تھا..

مبہوت آنکھوں کے نیچے لبوں سے ایک لفظ نکلا…….. “گنگا..”

..اُن سے نظریں کیا ملیں

..روشن فضائیں ھو گئیں

..آج جانا پیار کی

..جادوگری کیا چیز ہے

یہ چند لمحات ہی تھے.. اور یوں اُن چند لمحات میں ایک زمانہ گزرا…… گنگا کا آغاز ہو چکا تھا..

•••

ہاں تو بات چل رہی تھی کہ آگے ایک موڑ پر ایک جھونپڑا تھا اور اُس کے برابر میں ترکی کی کسی ڈسپنسری کا کیبن تھا. شاید کوئی این جی او ہو گی جو مقامی آبادی کا علاج معالجہ یا ریسرچ میں مشغول ہو گی. اُن کے عملہ میں نرسیں اور ڈاکٹر بھی ہوں گے، ہم نے زیادہ غور نہیں کیا. بالکل بھی نہیں..

اگرچہ ہماری ٹیم کا تعلق میڈیکل پروفیشن سے تھا مگر انہوں نے ڈسپنسری پر ایک سرسری سی نگاہ ڈالی اور آگے بڑھ گئی. ایک نرس غالباً نئی نئی سو کر اٹھی تھی. وہ کیبن کے اردگرد کچھ کاموں میں مشغول ہو گئی. ہم نے بالکل بھی غور نہیں کیا اور رفتہ رفتہ اس جگہ سے بلند ہو گئے.. یہاں تک کہ سڑک ختم ہو کر جیپ ٹریک میں بدل گئی.

جہاں میٹلڈ سڑک کا اختتام ہوتا ہے وہیں سے پہاڑ کی چوٹی کی جانب پگڈنڈی بلند ہوتی ہے. یہاں چڑھائی اور پتھر کافی ہیں. اگر یہ چڑھائی چڑھنے کا دل نہ کر رہا ہو تو جیپ ٹریک پر ہی چلتے جائیں، پچھلی جانب گھوم کر چوٹی تک ہی پہنچیں گے……. اور وہ چوٹی گنگا-4 کہلاتی ہے جو پوری سدھن گلی سے صاف نظر آتی ہے.

اسی سبز قالین نما چوٹی پر پایہ میڈوز کاغان جیسا نظارہ ملتا ہے. ہم وہاں کافی دیر بیٹھے رہے اور میری نگاہ کے مطابق بدل چکے کشمیر کا نظارہ کرتے رہے. پچھلی جانب گلیات کے پہاڑ محوِ خواب تھے…. اور ہمارے سامنے گنگا کا حسین ترین نظارہ تھا.

پچھلی بار کیپٹن نادرہ اور مَیں یہیں بیٹھ کر مس فریال اور ڈاکٹر فرحانہ کا انتظار کرتے رہے تھے اور گنگا میں محو رہے تھے..

گنگا اے گنگا…..

یا یہ سامنے ہے یا وہ تھی….!!

A view of Kashmir from Ganga Peak Trek - Azad Kashmir, Pakistan

(A view of Kashmir) کشمیر کا ایک منظر
عکاس: کیپٹن نادرہ ملک

پہاڑی سے اتر کر ہم دوسری جانب دوبارہ جیپ ٹریک پر آ گئے اور آگے مزید بلندی پر موجود مزید سبز قالینوں تک پہنچ گئے جس کے دونوں جانب گہرائیاں ہیں. آج برف پوش کوہِ قاضی ناگ ذرا کہرآلود تھا مگر جلا دینے پر قادر تھا. ڈاکٹر شہباز نے باقاعدہ جوتے اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیے اور نرم نرم گھاس پر ننگی پیری چلنے لگے.

یہاں ہم نے نعرے بھی لگائے..

“شہباز شریف”

“زندہ باد”

“شہباز شریف”

“زندہ باد”

آس پاس چند مقامی پیپلیے بیٹھے تھے اور جانے کیوں ہمیں گھورنے لگ گئے.. مَیں نے اُنہیں ہٹوبچو کیا “پچھے پچھے ہٹ جاؤ، سڑک بننے لگی جے..”

•••

اس بے انتہا وسیع اور خوبصورت سبز قالین نما علاقے میں شدید ریڈئیشن تھی. تجربہ کی بنیاد پر مَیں جان چکا تھا کہ وصالِ یار کا سیاہ نور چہرے پر چمکے گا. اور یہ تقریباً وہی نور ہوتا ہے جو ولیمہ کے دن دلہا دلہن کے چہروں میں محسوس کیا جا سکتا ہے.. مگر صرف ہمراز دیکھ سکتے ہیں.

گنگا-3 کے پہلو میں سے گزرے جس پر مسجد یا اسی قسم کی عمارت موجود ہے.

گنگا-2 کے عین نیچے جو کرکٹ کا میدان اور جیپ پوائنٹ ہے ہم وہاں بڑے خیمے کے قریب پہنچ کر لم لیٹ گئے. منرل واٹر کی بوتل لی گئی. ایک کپ چائے بنوائی گئی اور ٹیم نے خوب لبڑ کر کریمیں لگائیں.. یوں وہ فارنر فارنر سے لگنے لگے.

کچھ دیر میں دیکھا کہ آس پاس شور بڑھ رہا ہے. مقامی گاؤں وغیرہ کے لوگ کافی آ جا رہے ہیں. مقامی دبلی پتلی سمارٹ خواتین ایسی جوتیاں پہن کر ٹریکنگ کر رہی ہیں جو خودبخود پھسلنے کی اہلیت رکھتی ہیں.. یعنی جوتیاں. اور پورے کے پورے سکول حملہ آور ہو رہے ہیں.

ہم اٹھے اور دائیں جانب سے گنگا-2 پر چڑھنے لگے. گھاس بھرے قالینوں پر چہل قدمی خوشگوار محسوس ہو رہی تھی.. البتہ جب یک دم چڑھائی آئی تو ٹیم کا تراہ نکلنے لگا.

ایک موڑ کاٹا.. اور مجھے معلوم تھا کہ ایسا ہو گا.. سرسبز گنگا چوٹی یک دم نظر آ گئی اور کائنات میں طاری ہو گئی.. گنگا رے گنگا..

..اُن سے نظریں کیا ملیں

..روشن فضائیں ھو گئیں

کیا وہ بھی تُم تھیں؟

ڈاکٹر شہباز چھلانگاں مارتے ہوئے ٹریکنگ کر رہے تھے.. انہیں اپنے کم وزن اور روزمرہ کی ایکسرسائز نے فائدہ پہنچا دیا تھا. ڈاکٹر شریف اگرچہ چلتے جا رہے تھے مگر انہیں خدشہ تھا کہ کہیں بھی رک جائیں گے. خرم بھائی کی طبیعت خراب ہونا شروع ہو گئی اور وہ ایک ڈھلوان پر بیٹھ گئے کہ تسی ہو آؤ. انہیں دوائیاں شوائیاں کھلائی گئیں اور ٹینگ شینگ پلایا گیا. اور خوش قسمتی دیکھیے کہ انہیں دو دو پروفیشنل ڈاکٹرز میسر تھے اگرچہ ایک بے ہوش کرنے والے اور دوسرے بچوں کے ڈاکٹر تھے. ایسی صورتحال میں مسافرِشَب زیادہ سے زیادہ پیناڈول دے سکتا تھا یا گلے لگ کر رو سکتا تھا.. جو بھی مزاجِ یار میں آئے.. میرے پاس یہی کچھ ہے.

Climbing Ganga Peak - Azad Kashmir, Pakistan

(Ganga Peak Steep Climbs) گنگا کی چڑھائیاں

عکاسی: مسافرِشب

کچھ دیر بعد جب خرم بھائی میں طاقت بحال ہوئی تو ہم زگ زیگ کرتے ہوئے آگے بڑھے. گنگا پِیک زیادہ دور نہیں تھی.. اگرچہ میں کنفیوژ ہو گیا کہ گنگا یہ ہے یا وہ تھی.

ہم سے اوپر چیونٹیوں کی مانند ایک پورے سکول کی بچیاں سفید یونیفارم میں گنگا کی جانب چلتی جا رہی تھیں جیسے روحیں عالمِ ارواح کی جانب محوِ سفر ہوں. ہم بھی اُن میں جا شامل ہوئے. اُنہی بچیوں کے درمیان ایک اکیلی ننھی منی سفید بکری بھی چل رہی تھی.. فوراً اُسے قابو کیا گیا. ہم سے کچھ پیار لے کر وہ باقاعدہ ہماری ہو گئی. اب وہ ممیاتی ہوئی ہمارے ہمراہ چلنے لگی.. یہاں تک کہ ہم بیس کیمپ تک پہنچ گئے اور بکری کے ساتھ خوب فوٹوگرافی کی.

A goat on Ganga Peak Trek - Azad Kashmir, Pakistan

گنگا کی بکری
عکاسی: خرم سپرا

مَیں نے خرم بھائی سے کہا کہ سر آپ لاہور سے ہیں، بکری کو سونگھ سونگھ کر یاد کر لیں.

•••

بیس کیمپ سے اوپر گنگا کی چوٹی کو دیکھ کر ٹیم ذرا متذبذب ہوئی کہ یہ باریک سی عمودی چوٹی پر کیسے چڑھا جائے گا. مزید یہ کہ سفید روحوں نے پوری چوٹی کو نرغے میں لیا ہوا تھا.. کیا روحانی منظر تھا.

مَیں نے اردگرد دیکھا کہ کہیں بادل تو نہیں.. پھر گھاس بھری زمین پر دیکھا جہاں مجھے پچھلی بار جامنی آنچل ملا تھا… اور مَیں نے نم گھاس ہٹا کر گنگا کے بدن کو چُوم لیا تھا. میرے رونگٹے سے کھڑے ہو رہے تھے کیونکہ برق سی گرنے والی صورتحال مجھ پر طاری ہو رہی تھی.

Ganga Peak گنگا پِیک - Azad Jammu and Kashmir, Pakistan

 گنگا
عکاسی: خرم سپرا

بہرحال.. گنگا کے پتھریلے ٹریک پر قدم رکھ کر ہم رفتہ رفتہ بلند ہوتے گئے. دس پندرہ منٹ میں ہم اوپر کھمبے تک پہنچ گئے جہاں “کلمہ چوٹی” کا کتبہ لگا ہے، جیسے گنگا کو دفن کر کے لگایا ہو… مگر گنگا زندہ و باشعور ہے.. زمین پر، زیرِ زمین اور آسمانوں میں.. اور بعض اوقات کسی اور کی صورت کہ جس کی کالی گھٹائیں موسموں کو شاعری سکھاتی ہیں.. گنگا رے گنگا..

•••

گنگا چوٹی پر رفتہ رفتہ بہت رش ہو گیا. جہاں دس لوگوں کے کھڑے ہونے کی جگہ تھی وہاں دو تین سکولوں کے مشترکہ بچے، بچیاں اور اُستانیاں موجود تھے.. گنگا ہائے گنگا….

ایک استانی نے اتنا شدید سرخ جوڑا پہن رکھا تھا کہ مقبوضہ سے بھی نظر آتی ہو گی..

آج مشرقی جانب پیر پنجل مستن نیشنل پارک بے حد حسین لگ رہا تھا..

ہم نے کافی فوٹوگرافی وغیرہ کی اور ایک جانب بیٹھ کر ٹینگ اور او آر ایس کے ہمراہ چپس بسکٹ وغیرہ تناول فرمائے. بڑا مزہ آیا…

یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں پچھلی بار ایسے بجلیاں گر رہی تھیں کہ باقاعدہ دھماکہ ہو جاتا تھا اور لگتا تھا کہ چوٹی گر جائے گی.

..جو آنا چاہو ہزار رستے

..نہ آنا چاہو تو عذر لاکھوں

..مزاج برہم، طویل رستہ

..برستی بارش، خراب موسم

.. گرتی گرجتی بجلیاں

اور پھر گھنٹے بعد ڈاکٹر فرحانہ اور مسفریال کے ہمراہ یہاں آیا تو گنگا پرامن ہو چکی تھی.. بادل نیچے تھے اور ہم اوپر تھے..

•••

Ganga Peak گنگا پِیک - Azad Jammu and Kashmir, Pakistan

 گنگا ٹاپ
عکاسی: خرم سپرا

اور آج ایسا لگ رہا تھا کہ یہاں آنا کوئی مشکل بات ہی نہیں.. چھوٹے چھوٹے بچے تک یہاں چھلانگیں مارتے پھر رہے ہیں.

مجھے خیال آیا کہ ہم لوگ اتنی مصیبتوں سے اِن چوٹیوں تک پہنچتے ہیں تو حالیہ ایورسٹ مہم میں کرنل بھٹی کی بہادری پر انہیں داد دینی چاہیے.. خصوصاً زلزلے کے بعد ایورسٹ اب اتنی بھی معصوم نہیں رہی جتنی غیر متعلقہ فیلڈ کے اپنے تئیں بوہتے سمجھدار مگر حقیقتاً شدید جاہل کھلاڑی سمجھتے ہیں. ایسے لوگ اہلِ زباں نہیں، بد زباں ہوتے ہیں. کرنل صاحب اگر سپانسرڈ بھی ہوئے پھر بھی ایورسٹ تو انہوں نے خود ہی چڑھنا تھی.. اور یاد رہے کہ وہ میدانی علاقوں سے ہیں. اس سے پہلے تمام پاکستانی جو ایورسٹ پر جا چکے ہیں وہ پیدائشی پہاڑیے تھے اور اُس وقت وہ نیپالی شرپاؤں کے کندھوں پر سوار ہو کر جاتے رہے ہیں.. سوائے حسن صدپارہ کے.

ایک اور خیال بھی آیا کہ کاش میں اپنی سائیکل ہی یہاں لے آتا… مگر مسئلہ یہ ہے کہ میری سائیکل مس عالیہ رحمان خان لے چکی ہیں. چلیں اگلی بار مَیں اپنی ربڑ کی چپلیاں یہاں لے کر آؤں گا..

•••

ہمیں یہاں ایک بہت ہی بارعب اور پرتاثیر شخصیت نظر آئی. یہ متین نقوی صاحب تھے جو چکوٹھی مظفرآباد روڈ کے ایک قصبے کے سکول میں پرنسپل تھے. بہت شگفتہ اور دراز قد شخصیت تھے. انہوں نے چوٹی سے اردگرد کی کچھ ایسی تفصیل بتائی جس میں بہت سے مقامی نام تھے. کل بروز 30 مئی اُن کا جنم دن ہے.. مبارک ہو سر.

•••

واپسی سے پہلے چوٹی سے سدھن گلی کی جانب دیکھا تو ہمیں صرف اپنا سرخ چھتوں والا ریسٹ ہاؤس نظر آیا.. یقیناً ہم بہت شدید فلک بوس تھے..

ریسٹ ہاؤس سے اوپر کوپرا ٹاپ یا کوبرا ٹاپ بھی نظر آ رہا تھا اور وہ بھی شدید نشیب میں تھا..

•••

اترائی اترتے ہوئے ہم نے ایک تجربہ کیا. اب کی بار باقاعدہ ٹریک سے واپس جانے کی بجائے سیدھا سیدھا گنگا-2 کی چوٹی تک پہنچے اور سیدھا ٹُک نیچے کرکٹ میدان میں ڈھلکتے ہنستے مسکراتے جا پہنچے. راستے میں سکولوں کی استانیاں بھی ادھر اُدھر پھر رہی تھیں. ڈاکٹر شریف ایک بار پھر پُونڈوائے گئے..

•••

ٹرکش کیبن کے اردگرد ایک نرس واک کر رہی تھی.. ہم نے زیادہ غور نہیں کیا.. اچھا کام کر رہے ہیں.. اللہ انہیں اجر عطا فرمائے، آمین.

•••

شام سوا چار بجے ہم سدھن گلی پہنچ گئے. وہاں پہنچ کر دیکھا کہ غزالِ شَب کا ٹائر پھر ہنس رہا تھا. فوراً تبدیل کیا گیا. آتے ہوئے مَیں نے ریڈیئل ٹائر میں پنچر لگوا لیا تھا.

یوں ہم پانچ بجے نکلے اور شب گیارہ بجے اسی راستے سے فیض آباد فیصل موورز ٹرمینل پر پہنچ گئے.

شہباز شریف اور شہزادہ خرم، آپ کا بہت شکریہ.  امید ہے آپ کا سفر خوشگوار گزرا ہو گا..

شہباز شریف…. زندہ باد

شہزادہ خرم… باادب باملاحظہ ہوشیار

اک غزال پر مزار بنا کر آپ نے مجھے تو خوش ہی کر دیا.. تھینک یو..

•••

جب ہم نے درہ دھیرکوٹ عبور کیا تھا تو اُس وقت گلیات کے پہاڑ سیاہ تھے اور اُن میں ایک کائنات تھی.. ایک کہکشاں تھی.. ایک آکاش گنگا روشن تھی..

گنگا بہت یاد آئی.. گنگا رے گنگا..

جانے یہ تھی یا وہ تھی….

•••

تو، مَیں اپنے باتھ روم میں کھڑا آئنہ دیکھ رہا ہوں جس کے پار ایک سیاہ چہرا نظر آ رہا ہے جیسے پھٹکار پڑی ہو. مگر ایسی کوئی بات نہیں. یہ پھٹکار ہرگز نہیں، وصالِ یار کا نُور ہے. اور نُور ہمیشہ سیاہ رنگ ہوتا ہے.. کسی مجنوں سے پوچھیے.

..جنوں میں قَیس بہ صحرا کا بھی جواب نہیں

..تو لاجوابیٔ لیلیٰ کا بھی جواب نہیں

•••

(ختم شُد.. گنگا شروع)

مصنف کے بارے میں

محمد احسن

میرا نام محمد احسن ہے اور مجھے مُسافرِشَب بھی کہا جاتا ہے اگرچہ میرے سفر زیادہ تر دِن میں سرانجام پاتے ہیں.. کہہ سکتے ہیں کوا اندھیری رات میں دِن بھر اُڑا کیا.. ویسے تو مجھے بھی یقین نہیں آتا کہ میری مذکورہ ذیل تعلیم و تربیت ہے —- بطور سفرنامہ نگار میرے تین سفرنامے شائع ہو چکے ہیں – دیوسائی میں ایک رات، چولستان میں ایک رات، انگلستان کے سو رنگ —- بطور مترجم میرے دو تراجم شائع ہو چکے ہیں – سر آئزک نیوٹن، مارک ذکربرگ فیس بک کا بانی —– بطور اون لائن رائیٹر میرے سینکڑوں رائٹ اَپس موجود ہیں جو میری فیس بک پروفائل پر پڑھے جا سکتے ہیں —– تعلیم ماسٹر اوف کمپیوٹر سائنس، مائیکروسوفٹ سرٹیفائیڈ سسٹم انجینیئر، پوسٹ گریجویٹ اوف کمپیوٹر سائنس، ماہرِ فلکیات فروم مانچسٹر یونیورسٹی، ماہرِ موسیقی فروم سکول اوف ساؤنڈ ریکارڈنگ انگلینڈ، سائنس ریسرچر کالم نگار ویکلی مانچسٹر —– تجربات میں گرافک ڈیزائنر (ویب) عرصہ 7 برس، بڑا استاد اوف براق سائنس انسٹیٹیوٹ، اور ٹریول اوپریٹر وغیرہ وغیرہ، مزید وغیرہ……. اِن مندرجات پر یقین کر لیں تو مہربانی ہو گی ۔۔

قراقرم کہانی کے لیے لکھیے

Contact Us

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search