گنگا پِیک مہم : حصہ اول

Published By Mobeen Mazhar

پہلی قسط

زمانہ : 24 / 25 مئی 2017
ایام : گوتم بدھ / جمعرات شبِ برات
تحریر : مسافرِشَب
•••

یہ ایک کالا کلوٹا چہرا ہے جیسے پھٹکار پڑی ہو.. مگر ایسی کوئی بات نہیں. یہ پھٹکار ہرگز نہیں، وصالِ یار کا نُور ہے. اور نُور ہمیشہ سیاہ رنگ ہوتا ہے.. کسی مجنوں سے پوچھیے.

..جنوں میں قَیس بہ صحرا کا بھی جواب نہیں
..تو لاجوابیٔ لیلیٰ کا بھی جواب نہیں

رمضان شروع ہو چکا ہے.. اور مَیں اپنے باتھ روم میں کھڑا آئنہ دیکھ رہا ہوں جس کے پار ایک سیاہ چہرا نظر آ رہا ہے جیسے پھٹکار پڑی ہو. مگر ایسی کوئی بات نہیں. یہ پھٹکار ہرگز نہیں، وصالِ یار کا نُور ہے. اور نُور ہمیشہ سیاہ رنگ ہوتا ہے.. کسی مجنوں سے پوچھیے.

..جنوں میں قَیس بہ صحرا کا بھی جواب نہیں
..تو لاجوابیٔ لیلیٰ کا بھی جواب نہیں

اسلام آباد ٹریکرز میٹ اَپ میں گورے چٹے قاسم نیّر نے جب سکرین پر اپنی سیاہ پھٹکار زدہ تصویر دکھائی تو حاضرینِ محفل نے خوب تالیاں بجائیں.. کیونکہ یہ پھٹکار ہرگز نہیں، وصالِ یار کا نُور ہے. اور نُور ہمیشہ سیاہ رنگ ہوتا ہے.. کسی مجنوں سے پوچھیے.

..جنوں میں قَیس بہ صحرا کا بھی جواب نہیں
..تو لاجوابیٔ لیلیٰ کا بھی جواب نہیں
•••

ہفتہ 20 مئی 2017 کی بات ہے. مَیں ایک فی-میل ٹیم کے ہمراہ مکشپوری ٹاپ جا رہا تھا. اس ٹیم میں میرے علاوہ دوسرا مرد کاکائے مَن تھا. اور وہ مرد اس لیے ہے کیونکہ اتنی سی عمریا میں اُس کی حرکتیں ابو پر جا رہی ہیں.. بس جی استغفراللہ.

ہم ازراہِ عادت نتھیاگلی روڈ پر عزیز آباد کے قریب اُسی ریسٹورینٹ کی چھت پر ناشتا کر رہے تھے جہاں کشمیر کے برفپوش منظر کے عین وسط میں گنگا پِیک ن کے نکتہ کی مانند براجمان ہے اور باقاعدہ ہمکلام ہوتی ہے. دُوربین نکالیے اور گنگا کے بدن کے ایک ایک ابھار کو ملاحظہ کیجیے. دُوربین میں گنگا کے جنگلات کے درخت یوں الگ الگ دیکھے جا سکتے ہیں جیسے وصل کی بات پر سُرخ عارض ہو کر اُس کے رونگٹے کھڑے ہوں.

Ganga Choti - Azad Jammu and Kashmir, Pakistan

(Ganga Peak from Nathia Gali, Pakistan) نتھیاگلی روڈ سے نظر آتی گنگا پِیک
عکاسی: مسافرِشب

اُس صبح گنگا سرخ عارض بلکہ کچھ زیادہ ہی گلنار ہو رہی تھی کیونکہ چار دن کے بعد چند خاص احباب کے ہمراہ گنگا کے بدن پر رینگنے کا ارادہ تھا.. اور گنگا یہ بات جانتی تھی. اس منصوبہ کی تشہیر اس لیے نہیں کی گئی کیونکہ یہ ایک پرائیویٹ پلان تھا. تشہیر کر کے کیا کہتا کہ حضرات کوئی جگہ نہیں، بس انجوائے ہی کیجیو؟

Ganga Peak گنگا پِیک - Azad Jammu and Kashmir, Pakistan

 گنگا چوٹی کی آخری ہائیٹ
عکاسی: مسافرِشب

گوتم بدھ.. یعنی بروز بدھ 24 مئی 2017 کی صبح 8 بجے لاہور سے خرم بھائی المعروف ابوطلحہ اور ملتان سے دو ڈاکٹرز.. اینستھیزیا ڈاکٹر شہباز اور چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر شریف.. فیصل موورز ٹرمینل فیض آباد کے ویٹنگ ایریا میں میرا انتظار کر رہے تھے. اور مَیں ذرا غزالِ شَب کا ٹائر تبدیل کر رہا تھا کیونکہ صبح سو کر اٹھا تو دیکھا کہ ایک ٹائر ہنس رہا تھا. ہنسنے والا ٹائر ہرگز سنجیدگی سے کام نہیں کر سکتا اور باقی ٹائروں کو بھی ڈپریشن میں مبتلا کر دیتا ہے.

جب مَیں ذرا دیر سے ٹرمینل پہنچا تو اپنی خوبصورت ٹیم کو ملاحظہ کیا.. واہ وا. ڈاکٹر شریف میرے ساتھ پہلی بار جا رہے تھے. وہ ڈاکٹر شہباز کے کرائم پارٹنر ہیں. میرا مطلب ہے کہ خاص اوپریشنز میں دونوں ڈاکٹرز ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں ورنہ اوپریشن سرانجام نہیں پا سکتا. ڈاکٹر شہباز اس سے پہلے میرے ساتھ ٹھنڈیانی جا چکے تھے، وہی ڈاکٹر شریف کو بھی اپنے ہمراہ لے آئے. یوں “شہباز شریف” کی ہمراہی سے حوصلہ پیدا ہوا کہ جہاں بھی سڑک خراب ہوئی، اپنی بناتے جائیں گے..

اور یہ جو خرم بھائی ہیں، اِن کی پروفائل امیجز اتنی خوبصورت ہوتی ہیں کہ میری آنکھوں میں آنسو موج زَن ہو جاتے ہیں. خرم بھائی ایک عرصہ سے میرے ہمراہ سفر کر رہے ہیں.. انگلش و اردو، دونوں زبانوں والا سفر.

اِن احباب نے اپنے طور پر گنگا کا پلان بنا کر مجھے انفارم کر دیا تھا. مَیں نے فوراً کہا کہ پلیز چلو. ایکچوئلی، پچھلی بار گنگا پر رایٹ اَپ لکھنے کے بعد مَیں اُسے بے حد مِس کرنے لگ گیا تھا. قلم اندر کے بھید کھول دیتا ہے.. سینہ چیر کے رکھ دیتا ہے.. کم از کم لکھاری کا. یوں، مجھے گنگا میں ایک کائنات کا لمس ملنے لگ گیا تھا.
•••

تقریباً 9 بجے ہم اسلام آباد سے سدھن گلی کے لیے نکل گئے.

..وہ بنتِ قبیلہ نہ ہو منتظر
..ذرا تیز اے عزمِ مستانہ چل

اِس بار ہماری ٹیم مردانہ تھی.. پچھلی بار زنانہ ٹیم تھی جس میں مِس فریال عثمان خان، ڈاکٹر فرحانہ اور کیپٹن نادرہ شامل تھیں. اور مَیں ٹیم دیکھ کر وہی جنس اختیار کر لیتا ہوں. اگلی بار اگر ٹیم مخلوط ہوئی تب مجھے اپنے متعلق قرعہ اندازی کرنا پڑے گی.. یا پھر دونوں اجناس بیک وقت طاری کرنا ہوں گی.

..دشت میں لیلیٰ و قیس رہو
..کوہ میں شیریں و فرہاد رہو

تو ہماری مردانہ ٹیم سدھن گلی کے لیے نکل گئی..

..جَبل در جَبل دَشت در دَشت ابھی
..جواں مردِ کہسار! مردانہ چل

ہم نے جھیکا گلی سے بھوربن کی جانب جانا تھا اور اُس کے بعد کوہالہ اُتر کر باغ روڈ پر بلند ہو جانا تھا. درہ دھیرکوٹ کو عبور کر کے باغ ڈسٹرکٹ میں داخل ہو جانا تھا. آخرکار باغ شہر پہنچ کر سدھن گلی کی چڑھائی چڑھنی تھی اور وہیں کسی ہوٹل میں شَب بسر کرنی تھی. اس بار ٹوؤرازم کاٹیجز میں شَب بسر کرنے کا ارادہ نہ تھا کیونکہ دو دن قبل فون پر کاٹیجز کے منیجر نعیم نے کافی بے رخی دکھا دی تھی.

گوگل میپس پر آپ جب بھی اسلام آباد سے سدھن گلی کا نقشہ کھوجتے ہیں تو یہی مذکورہ بالا روٹ بن جاتا ہے جو 164 لمبا ہے. ایک دوسرا روٹ بھی ہے جو قدرے چھوٹا ہے مگر اُس کی سڑکیں اچھی حالت میں نہیں. وہ روٹ براستہ کہوٹہ اور راولاکوٹ باغ لے جاتا ہے. پچھلی بار اسی روٹ سے جا کر غلطی کی تھی.. اگرچہ اذالہ کے طور پر راولاکوٹ کے قریب ایک خوبصورت آبشار سے بھی مستفید ہوئے تھے. اُس روٹ کی مکمل تفصیل میرے گزشتہ گنگا کے رایٹ اَپ میں موجود ہے.
•••

یہ ایک روشن اور گرم دن تھا. بعض دفعہ اپنے اوپر سخت غصہ آتا ہے کہ اتنی گرمی میں کیوں پیدا ہوا. جی ہاں، 24 مئی میرا جنم دن ہے. امی جی بطاطی ہوتی تھیں کہ جب 24 مئی کی شَب مَیں ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی میں پیدا ہوا تھا تو اُس شَب کافی رم جھم جاری تھی اور اُن کے وارڈ میں سے برف رُو ماریا اور ننھے حضرت عیسیٰ کا مجسمہ نظر آتا تھا. ویسے بھی اُس وقت آسٹریلیا میں سردیاں تھیں. دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال کافی اچھا ہے.
•••

راستے میں ڈاکٹر شریف کا تعرف کروایا گیا کہ وہ ہینڈسم ڈاکٹر لیہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ملتان کے ایک اہم ہسپتال میں جاب کرتے ہیں.. اور غالباً یہ واحد شریف ہیں جو اپنے نام کے مصداق واقعی شریف ہیں.

لیہ کے ذکر سے مجھے کامران علی یاد آ گئے جو چُن چُن کر دنیا بھر کے لمبے رُوٹس پر سائیکل چلاتے ہیں. کچھ عرصہ قبل کامران جرمنی سے براستہ ترکی، وسطی ایشیا اور چائنہ خنجراب پاس پہنچے اور رفتہ رفتہ لیہ میں اپنے گھر آ گئے.. یعنی سائیکل پر ہی. اس کے بعد بھی اُن کی مکمل تشفی نہ ہوئی تو ارجینٹینا کے سب سے جنوبی علاقے میں پہنچ گئے جس کے بعد اگلی زمین اینٹارکٹیکا کی ہے. وہاں سے سائیکلنگ شروع کر کے انہوں نے 15 ہزار کلومیٹر دور شمال میں الاسکا پہنچنا ہے. فی الحال وہ وسطی امریکہ پہنچے ہیں. لیہ کے کامران علی کا پیج “کامران اون بائیک” کے نام سے موجود ہے اور وہ پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں. مَیں صرف اسی سائیکلنگ کو اصلی سائیکلنگ سمجھتا ہوں.. باقی سب ڈرامے بازی ہے.
•••

ابھی ہم ایکسپریس وے پر ہی تھے کہ ڈاکٹر فرحانہ کا فون آ گیا. مجھے برتھ ڈے وش کرنے کے بعد اُنہوں نے یاد کرایا کہ پچھلی بار گنگا سے واپسی پر دھیرکوٹ اور باغ کے درمیان دریائے ماہل پر ایک روڈ سائیڈ ریسٹورینٹ میں اُن کی یادگار شال رہ گئی تھی. وہاں سے گزروں تو پِک کر لوں. مَیں نے جی اچھا کہا.
•••

جھیکا گلی سے پار موسم کہرآلود تھا اس لیے گنگا نظر نہ آ سکی.. البتہ میرانجانی اور مکشپوری نظر آ رہی تھیں جنہوں نے مجھے مسکرا کر دیکھا.

..غزالوں کی آبادیاں ہیں قریب
..غزل خوانیاں کر غزالانہ چل

اور غزالِ شَب غزالانہ چلنے لگی….

ابھی مَیں گنگا کو مِس ہی کر رہا تھا کہ ایک فون کال آ گئی. وہ کال ایک ایسے دیرینہ دوست کی تھی جو عرصہ دراز سے بدذوق مجبوریوں تلے دبا ہوا ہے اس لیے رابطہ نہیں رکھ سکا. اُس نے تنہا رہنے کی ٹھان رکھی ہے.. یا اُس کی قسمت نے تنہائی لکھ دی ہے. مجھے خوشی ہوئی کہ اُس نے مجھے وِش کرنے کے لیے فون کر ہی لیا.

..جو مقصودِ خاطر ہے تنہا روی
..تو آزاد و تنہا و یگانہ چل
..حریفوں کی چالوں سے غافل نہ ہو
..کٹھن وادیوں میں حریفانہ چل
•••

مکشپوری، میرانجانی، ٹھنڈیانی، ٹِلاچارَونی، مکڑا اور ملکہ پربت کے بعد اب گنگا بھی وہ خاتون بن رہی ہے جس سے مَیں دیرینہ تعلقات قائم کر رہا ہوں. اب مَیں گنگا بھی بار بار جاؤں گا. چونکہ یہ نارمل خواتین نہیں اس لیے ایک دوسرے کے متعلق حسد میں مبتلا نہیں ہوتیں. عرب خواتین سمجھ لیں جو اپنی شادی کی سالگرہ پر شوہر کو ایک اور دیوداسی تحفے میں دے دیتی ہیں. یوں.. مجھے اپنی سالگرہ پر گنگا مل رہی تھی.. واہ وا. شکریہ لڑکیو…
•••

بھوربن کے قریب ایک روڈ سائیڈ ریسٹورینٹ “نمک منڈی شنواری” میں بھرپور انگریزی و دیسی ناشتا کیا گیا. اس ریسٹورینٹ کی کھڑکی میں وادی کا وسیع منظر تھا اور اس میں مکشپوری خاتون کا پورا مرد پہاڑ طاری تھا. طبیعت بہت خوش ہوئی. ابھی مزید کھڑکیوں نے ہمیں حیران کرنا تھا مگر یہ ابھی بعد کی باتیں ہیں.

اسی ریسٹورینٹ میں تخت بھی بچھے تھے جن پر سرخ قالین اور گاؤ تکیے تھے. چونکہ ٹیم رات بھر سفر کر کے اسلام آباد پہنچی تھی اس لیے ایسے تخت دیکھ کر وہ لم لیٹ گئے. پیارے بھائیوں کو تخت پر لیٹے دیکھ کر خیال آیا کہ “تخت بھائی” اسے کہتے ہیں. کچھ دیر لیٹنے کے بعد ہم دوبارہ سڑک پر رواں تھے.
•••

بھوربن کے بعد سڑک بتدریج نیچے جانا شروع ہو گئی اور گھنٹہ بھر میں ہم دریائے جہلم کے کناروں پر سفر کرنے لگے.

ایک کوسٹر ہمارے آگے تھی جس میں سے شور بلند ہو رہا تھا مگر سواریاں نظر نہ آ رہی تھیں. اچانک ایک موڑ آیا تو کوسٹر نے ٹرن لیا. ایک کھڑکی میں چند گرلز لٹکنے کی کوشش رہی تھیں.. اور کوسٹر اُن کی بھرپور مدد کر رہی تھی. انہوں نے جب میرے ساتھ بیٹھے ہوئے شدید ہینڈسم ڈاکٹر شریف کو دیکھا تو وہ قدرے بے قابو ہوئیں. پیاری لگیں.

اب یہ عجیب بات ہے کہ ڈاکٹر شریف لیہ سے اور ڈاکٹر شہباز مظفرگڑھ جیسے جنوبی اور گرم مرطوب شہروں سے تعلق رکھتے ہیں.. پھر بھی گورے چِٹے ہیں. خاص کر ڈاکٹر شریف سرائیکی لہجہ میں اردو بولتے ہیں، اگر کچھ بھی نہ بولیں تو گلگت ہنزہ کے لگتے ہیں. ویسے پیچھے سے وہ گلگتی ہی ہیں. جو بھی ہیں، شدید ہینڈسم ہیں.

کوہالہ پل کے قریب وہ کوسٹر نچلی سڑک پر ہو کر نیلم پوائنٹ کی جانب بڑھ گئی اور ہم اوپر والی سڑک پر داخل ہو گئے اور جہلم کراس کرنے لگے. سرمئی دریا میں کافی پانی تھے.. جانے کس کس محبوب کے پانی تھے.

میرا خیال تھا کہ پل کراس کر کے ہمیں ہمیشہ کی طرح چوکی پر روک لیا جائے گا مگر ایسا نہ ہوا. کسی نے ہمیں نہ روکا. اور یہ ایک خوش آئند خبر ہے کہ پورے ٹرپ پر ہمیں کہیں بھی نہ روکا گیا حالانکہ کافی چوکیاں آتی جاتی رہی تھیں. شاید آجکل سفروں کے دوران نامناسب حالات سے بچاؤ کے لیے مَیں جو اوراد و وظائف کر رہا ہوں وہ اپنا اثر دکھا رہے ہیں. یا پھر ہماری ٹیم اتنی شدید مردانہ تھی کہ چوکیاں بھی ہمیں دور رکھ رہی تھیں. چوکی ذرا زنانہ لفظ ہے.

پل کے بعد مظفرآباد کی جانب ایک آدھ کلومیٹر سفر کیا، تب دائیں جانب باغ روڈ آئی. ہم اُس پر چڑھ لیے. پہلی چوکی آئی، پولیس والا ہماری جیپ دیکھ کر اٹھا اور بیریئر ہٹا دیا. ہم بغیر رکے آگے بڑھ گئے.. شدید اعلیٰ ہو گیا. بہترین سڑک تھی. غالباً پورے کشمیر کی اعلیٰ ترین سڑک یہی ہے. کافی اوپر پہنچ کر یاد آیا کہ یار ہم اگر نیلم پوائنٹ پر ایک ایک کپ چائے پی لیتے تو کیا مضائقہ تھا، خیر اب وقت نکل چکا تھا.

راستے میں چیڑ کے گھنے جنگل شروع ہو گئے. ایک جگہ سڑک پر نیم اندھیرا دیکھ کر غزالِ شَب خود بخود رکتی چلی گئی. ہم نے یہاں کچھ منظر کشی کی اور سڑک پر چہل قدمی کی. ویک ڈے ہونے کے باعث سڑک کافی حد تک سنسان تھی. ہمیں خاموشی کے کچھ مہک آور جزیرے ملے. کچھ دیر بعد ہم دوبارہ محوِ سفر ہو گئے.

یوں ہم رفتہ رفتہ درہ دھیرکوٹ تک بلند ہو گئے اور تب بہت دُور کہر میں نیم روپوش گنگا چوٹی نظر آ گئی.. جیسے وہ خواب کی تعبیر ہو.

..ابھی منزلیں منزلوں تک نہیں
..ابھی دُور ہے شہرِ جانانہ چل
•••

ہم اُسی ریسٹورینٹ کے قریب سے گزرے جہاں ڈاکٹر فرحانہ اپنی شال بھول آئی تھیں. مَیں نے رُک کر اُن سے شال کے متعلق پوچھا. پورا عملہ صاف مکر گیا کہ انہیں ایسی کوئی شال نہیں ملی. اگلی بار پھر پوچھوں گا. اتنی بار پوچھوں گا کہ وہ کسی بھی طرح شال تخلیق کر ہی لیں گے.
•••

ابھی دوپہر ہی تھی جب ہم باغ شہر کے قریب پہنچ گئے. باغ ہائی وے پر دائیں جانب دریائے ماہل پر معلق وہ پُل گزرا جس کے ذریعے راولاکوٹ سے آتے ہیں. ہم آگے بڑھتے رہے.

..غزالوں کی آبادیاں ہیں قریب
..غزل خوانیاں کر غزالانہ چل

ایک چھوٹا سا قصبہ آیا جہاں اٹک آئل کا پیٹرول پمپ تھا. فیول بھروانے کے دوران عملہ سے پوچھا کہ “سدھن گلی روڈ پر جو پُل زیرِ مرمت تھا وہ بن چکا ہے ناں؟ پچھلی بار وہ سڑک بند تھی اور ہمیں شدید بے ہودہ بائی-پاس روڈ سے سدھن گلی جانا پڑ گیا تھا.” عملہ نے کہا “آپ لوگ تولی پیر چلے جائیں. ویسے سدھن گلی روڈ کھلی ہے.”

یہ مقامیوں کی عادت ہوتی ہے کہ آپ اچھے بھلے کسی ایک جگہ جانا چاہتے ہیں مگر وہ آپ کو کسی اور جانب پھیر دینے کے لیے بھرپور زور لگاتے ہیں. مقامیوں کی باتوں میں سے صرف اپنے کام کی بات اخذ کر لینا ایک آرٹ ہوتا ہے.

ہم باغ شہر پہنچ گئے. جب سدھن گلی بائے پاس روڈ آئی جہاں خواتین کا کالج ہے تو مَیں نے اپنی آنکھیں دوسری جانب پھیر لیں تاکہ مجھے پچھلی مہم والی مشکلات یاد نہ آئیں.. بہت ہی ظالم سڑک تھی. ساہ بھی نہ لینے دیتی تھی.. الحمدللہ.

ذرا آگے پہنچ کر اُسی مرکزی پُل میں داخل ہو گئے جس پر گنگا چوٹی امڈتی ہے. مجھے یاد ہے کہ پچھلی بار اسی پُل پر گنگا کا آخری مکمل دیدار کیا تھا اور پھر اس کے بعد دُور دراز کے جھروکوں سے نامکمل نظر آئی. اب پھر مکمل دیدار ہونے والا تھا. اور وہ ہونا شروع ہوا.

..جنوں میں قیس بہ صحرا کا بھی جواب نہیں
..تو لاجوابیٔ لیلیٰ کا بھی جواب نہیں

اپنے پورے تن و توش کے ساتھ فلک بوس گنگا سامنے تھی.. جیسے بعض لوگوں کا محبوب ذرا لمبا ہوتا ہے. اچھا یہ بھی عجب بات ہے کہ محبوب اگر فی-میل بھی ہو، تب بھی وہ ہوتا ہے، ہوتی نہیں.

•••

تاریخی اور دیومالائی طور پر گنگا کون ہے؟ یہ سرزمین ہزاروں برسوں سے ہندومت کے زیرِ اثر رہی ہے.. اس لیے ہندوستان کے آزاد ہو چکے علاقوں میں ابھی تک ہندوانہ نام چلتے ہیں. بعد میں آنے والے مذاہب نے ہندوانہ یا پچھلے مذہب والے نام ہٹا کر نئے نام رکھنے کی کوشش کی ہے مگر نئے نام اتنے بدذوق یا مِس-فِٹ ہیں کہ باقاعدہ رونے کو دل کرتا ہے.. جبکہ بُت پرست ہندوؤں کے نام آج بھی آفاقی اور ذوق دریا محسوس ہوتے ہیں.. اس لیے، مَیں گنگا کا نام گنگا ہی لوں گا، نیا نام یہاں سُوٹ نہیں کرتا… اگرچہ مَیں دل سے اقرار کرتا ہوں کہ لا الہٰ الا اللہ، محمد رسول اللہ….

ہندوؤں کے اُسی قدیم دَور کی بات ہے کہ شہنشاہ ساگر دَوم کے زمانے میں قحط کی صورتحال ہو گئی.. انسان اور جانور نڈھال ہو کر مرنے لگے. ساگر دَوم بہت پریشان ہو گیا کیونکہ وہ رحم دل بادشاہ تھا، ہمارے موجودہ بادشاہوں کی مانند ہرگز نہ تھا جو خود مصنوعی قحط طاری کر کے دنیا سے بھیک مانگتے ہیں اور اپنے کاروبار چلاتے ہیں.

ساگر نے عظیم خدا براہمان سے دعا کی کہ اُس کی قوم پر رحم کیا جائے. براہمان نے دیوتا شیوا کی ڈیوٹی لگا دی کہ جاؤ اور ساگر کی مدد کرو.. یہ اسی طرح ہے جیسے اکثر اوقات خدا حضرت جبرائیل کو بھیجا کرتا تھا.. یا بھیجا کرتا ہے. یا طائف میں پہاڑوں کے فرشتے بھیجے کہ جاؤ محبوب سے پوچھ کر طائف کی بستی کو تہس نہس کر دو.. مگر محبوب نے منع کر دیا کہ اس کی ضرورت نہیں.. یہ لوگ جلد مجھے پہچان جائیں گے. غور کریں، یہ اختیار بھی کڑا امتحان ہوتا ہے.

دیوتا شیوا نے ساگر کے سامنے آ کر اپنی ٹانگیں پھیلا دیں. ہندوؤں کی مقدس کتب کے مطابق شیوا کی ٹانگیں پھیلتی پھیلتی کائنات کی آخری حدوں کو چھونے لگیں. شیوا نے اپنے دائیں پاؤں کے انگوٹھے کے ناخن سے کائنات کی اخروی حد (گریٹ ووئڈز) میں بڑا سا چھید کر ڈالا. اُس چھید کے پار لاہوت لامکاں سے دودھیا رنگ شدید خوبصورت حُور ایک سمندری مکڑا پر سوار کائنات میں داخل ہو گئی..

وہ حُور اپنے ہمراہ ایک بہت بڑا دریا لا رہی تھی. وہ دریا اتنا شدت آور تھا کہ اگر اسی شدت سے زمین پر آ جاتا تو قیامت ہی برپا ہو جاتی. لہذا شیوا نے دریا کو آسمان میں پھیلا دیا جسے آکاش گنگا کہتے ہیں.. یہی ملکی وے ہے. اور وہ حُور.. گنگا ہے.

پھر دیوتا شیوا نے اپنے زورِ بازو سے اُس دریا میں سے ایک چھوٹی نہر نکالی اور سرزمینِ ہندوستان میں چند دھارے بہا دیے. انہی دھاروں میں دریائے براہماپتر اور دریائے سندھ بھی شامل ہیں. اصل دھارا گنگا کہلایا جو آکاش گنگا سے مستقل پانی وصول کر رہا ہے.

اور شیوا وہی دیوتا ہے کہ ایک بار جس کا آنسو کوہستانِ نمک کی بلندیوں پر کٹاس مندر کا نیلگوں تالاب بن گیا تھا..

ہندو مت کے مطابق اُن کا بھی ایک ہی خدا ہے جسے براہمان کہتے ہیں، باقی خدا مثلاً براہما، شیوا، ویشنو، ایشور، وغیرہ وغیرہ ایک ہی براہمان کی صفات ہیں. اور گنگا محبت، بخشش اور زندگی کی فورس ہے. فورس کو قدیم زبان میں دیوی کہا گیا. البتہ شدید طاقت کے باعث اُس کی محبت بعض اوقات طوفان لاتی ہے اور انسان پریشان ہو جاتا ہے. شدتِ عشق سے لبریز محبوب تجھے پریشان کر سکتا ہے.. تجھے معلوم ہو گا اگر تیرا کوئی ایسا محبوب ہو گا..

Ganga Devi

گوگل فوٹو – گنگا دیوی

اب گنگا چوٹی کو گنگا کیوں کہا گیا.. یہ وہاں جا کر پتا چلتا ہے.. ویسے بھی ہندو روایت کے مطابق گنگا دیوی کو پہاڑوں کی چوٹیوں سے محبت ہے.
•••

ابھی ہم پُل عبور ہی کر رہے تھے کہ ڈاکٹر شہباز بولے کیک خریدنا ہے.” وجہ صاف ظاہر تھی کہ میرا جنم دن تھا. پل کے بعد بائیں جانب سدھن گلی کی اصل سڑک شروع ہو رہی تھی. ایک بیکری کے قریب رکے، وہاں کیک نہیں ملا. آگے نکل گئے اور ویگنوں کے اڈے کے بعد بلندی شروع ہو گئی اور غزالِ شَب کی رفتار ذرا سُست ہو گئی..

..چل اے دل! سوئے شہرِ جانانہ چل
..بصد شب رَوی ہائے مستانہ چل

کچھ دیر میں ہم اُسی دوکان پر پہنچے جہاں پچھلی بار ایک پائی نے بری خبر سنائی تھی کہ یہ سڑک بند ہے. اس بار صرف کیک کا پوچھا، سڑک کے متعلق کچھ نہیں پوچھا تاکہ سڑک کھلی رہے. اور کیک یہاں بھی نہیں ملا. ہم آگے بڑھ گئے. اب ماہل وانی نالہ ہماری بائیں جانب تھا اور گنگا چھپ چکی تھی. بائے پاس روڈ ظالم تو ہے مگر وہاں گنگا ہر وقت نظروں کے سامنے رہتی ہے.. اسی لیے ساہ بھی نہیں لینے دیتی.. الحمدللہ.

کچھ موڑوں کے بعد ایک بہت لمبا سا پُل آیا جو پدر نالہ کے اوپر واقع ہے اور پدر نالہ پیر پنجل مستن نیشنل پارک اور گنگا چوٹی سے شروع ہوتا ہے. پُل کے بعد چڑھائی میں مزید شدت آ گئی مگر یہ شدت بائی پاس روڈ کے سامنے کچھ بھی نہ تھی اور یہ سڑک بھی بہترین حالت میں تھی.

مزید آگے جبری گاؤں آیا جہاں سے ہمیں کیک اور موم بتی مل گئے. آگے وہی پُل ابھی تک زیرِ تعمیر تھا جس نے عرصہ سے سڑک بند کیے رکھی ہے. فی الحال انہوں نے وقتی طور پر ایک راستہ نکالا ہوا ہے. اور وہ راستہ ایک خوبصورت سی آبشار کے سامنے سے گزرتا ہے. ہم آبشار کے قریب رک گئے اور فیض یاب ہوئے. آبشار کے پیچھے یعنی اوپر گھنا جنگل نظر آ رہا تھا. ہلکی بارش میں اس جنگل تک واک بہترین ٹریکنگ ثابت ہو سکتی ہے. اگرچہ گرمی کافی تھی مگر آبشار کے پانی کافی سرد تھے. آبشار کے قریب پتھروں میں کرلے بہت زیادہ تھے.

Waterfall on way to Sudhan Gali for Ganga Peak گنگا پِیک trek

 (Sudhan Gali Waterfall) سدھن گلی کے راستے میں ایک آبشار

عکاسی: مسافرِشب

اس پورے علاقے میں کافی ترقیاتی کام ہو چکے ہیں اور مزید ہو رہے ہیں. پیپلز پارٹی کے وزیر قمر الزمان خان صاحب نے یہاں بہت کام کیا ہے اسی لیے اس پورے علاقے میں پی پی کے بہت ووٹرز ہیں. سدھن گلی کی خوشنما سڑک، باغ ہائی وے، اور اسی طرز کے بے شمار منصوبے قمر الزمان صاحب نے شروع کروائے. زیرِ تعمیر پُل پر بھی قمر صاحب کا نام لکھا ہوا تھا. نام کی تشہیر سے مجھے گلگت بلتستان کے “طلحہ محمود” صاحب کا بھی خیال آیا جنہیں ہر جہاں گرد جانتا ہے. اُن کے نمایاں کارناموں میں سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے پورے شمال میں کوئی چٹان ایسی نہیں چھوڑی جس پر طلحہ محمود نہ لکھا ہو. بلکہ بدھ مت سے تعلق رکھتی قیمتی چٹانوں پر بھی چونا پھیر کر طلحہ محمود لکھوایا ہوا ہے. خبر ملی ہے کہ نانگاپربت کی چوٹی پر بھی طلحہ محمود لکھا ہے. ایسے بندے کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈز میں آنا چاہیے.
•••

ابھی شام ہونے میں بہت وقت پڑا تھا. بائیں جانب سدھن گلی کا ٹاور اور درہ نظر آنے لگ گیا اور تھوڑی ہی دیر میں ہم سدھن گلی داخل ہو گئے. بہت سے کتے ہمارے ہمراہ بھاگنے لگے جیسے جَیٹ فائٹرز ہوائی جہاز استقبال کے لیے ہمراہ اڑتے ہیں. سدھن گلی کے کتے تو اب نارمل بات ہے.

منزلیں اپنے ماحول سے پتا دیتی ہیں کہ وہی منزلیں ہیں.. یہی حال سدھن گلی کا ہے. ستھری نکھری فضا.. مست آور خوشبوئیں.. دور پار کے کہرآلود پہاڑ.. اور نسبتاً ویران.. کیونکہ ویک ڈے تھا.
•••

جیسا کہ عرض کر چکا ہوں کہ ٹوؤرازم کاٹیجز والے نعیم نے فون پر بہت بے رخی دکھائی تھی اس لیے اب مَیں وہاں نہیں جانا چاہتا تھا.. اس لیے مَیں بازار کے چند ہوٹل میں جا کر ریٹس پوچھنے لگ گیا. سبھی بہت مہنگے تھے اور اُس کے کمرے بھی بہت غیر مناسب تھے.

پچھلی بار جب ہم بائے پاس روڈ سے یہاں آئے تھے تو سدھن گلی سے سو دو سو فٹ پیچھے اور ذرا بلندی پر ایک خوبصورت عمارت نظر آئی تھی مگر ہم نے اُسے گھاس تک نہ ڈالی تھی اور سیدھا بے نظیر پیلس جا پہنچے تھے اور ٹوؤرازم کاٹیج حاصل کر لیا تھا. اِس بار میرا اُسی عمارت میں جانے کا ارادہ تھا. وہ عمارت “پی-ڈبلیو-ڈی ریسٹ ہاؤس” ہے. ہم وہیں پہنچ گئے. مَیں سیڑھیاں چڑھ کر، چار پانچ کتوں میں سے گزر کر، عمارت میں داخل ہوا اور مناسب کمرہ دیکھا.

ریٹ بہت زبردست تھا.. میری توقع سے تقریباً آدھا سمجھ لیں. پوری عمارت اور ہمارے کمرے کی حالت اتنی بھی اچھی نہ تھی مگر ایک چیز نے میرے قدم روک لیے….

ہمارے کمرے میں دو کھڑکیاں تھیں. ایک کھڑکی سے باہر خوبصورت لان اور چیڑ کا گھنا جنگل نظر آ رہا تھا.. اور دوسری کھڑکی سے باہر وہ منظر تھا جو پوری سدھن گلی میں کسی اور کھڑکی سے نظر نہیں آتا……… ٹاور کے پیچھے بلند پہاڑ تھا اور اُس کے پیچھے ایک اوٹ میں سے کہرآلود گنگا چوٹی نظر آ رہی تھی.

..منزلیں بڑھ کر مسافر کے گلے لگ جائیں گی
..پاؤں چھونے کو ترستا راستہ رہ جائے گا

ایسی جگہ کو چھوڑ کر کہیں اور چلے جانا نری بدذوقی تھی. لہذا ہم یہیں کے ہو رہے..

Hotel window view - Sudhan Gali, Azad Jammu and Kashmir, Pakistan

ہمارے کمرے کی ایک کھڑکی – سدھن گلی

عکاسی: مسافرِشب

Ganga Peak گنگا پِیک - A view from Nathia Gali - Galiyaat Region, Pakistan

ہمارے کمرے کی دوسری کھڑکی جس میں گنگا نظر آ رہی ہے – سدھن گلی

عکاسی: مسافرِشب

یہاں کا کرتا دھرتا “سدھیر” تھا جو پورا عملہ تھا. اس نے ہمیں ہماری ہی کھڑکی سے باہر گنگا کے عین سامنے کرسی میز لگا دیے اور زبردست چائے پلائی. وہیں میرا کیک کاٹا گیا اور تالیاں بجائی گئیں.. سب سے بلند آہنگ تالیاں گنگا کی تھیں. مَیں نے سب کو کیک کے پیس کاٹ کر دیے.. اور آخری پیس گنگا کے منہ میں ڈالنے لگا.. وہ تو شرما ہی گئی.. یک دم بجلیاں سی گرجیں، بادل طاری ہو گئے، یوں لگا ابھی بارش شروع ہو جائے گی… اتنی قریب تھی اور اتنی جذباتی ہو رہی تھی..

تھینک یو ڈاکٹر شہباز…
گزشتہ برسوں میں ایک بار تنویر عباسی صاحب نے مارگلہ ہلز میں میرا کیک ذبح کیا تھا…
آپ کا بھی شکریہ..
•••

سدھیر نے کہا کہ شام ہونے میں ابھی بڑی دیر ہے. آپ پچھلے پہاڑ کی چوٹی تک ہو آئیں. یعنی سدھن گلی کی ایک جانب گنگا ہے اور پچھلی جانب ایک اور چھوٹی سی چوٹی ہے جہاں چراگاہیں اور میدان ہیں. اور یہ سب کچھ مَیں پچھلی بار گنگا کی بلندیوں سے دیکھ چکا تھا. اس پورے علاقے میں ہر چوٹی سر سے ذرا گنجی ہوتی ہے مگر وہ گنجا پن ہی اُس کی خوبصورتی ہے کیونکہ وہ چراگاہیں ہوتی ہیں.. یہی کشمیر کی خوبصورتی ہے.
•••

ہم نے ٹریکنگ سٹکس، جیکٹ اور پانی کی بوتلیں اٹھائیں اور پچھلی پہاڑی پر جانے لگے. بائے پاس روڈ پر قریب ہی کچی پگڈنڈی بلند ہو رہی تھی. جنگلوں میں سے گزر کر ہم اوپر پہنچے تو یک دم سبز قالین سامنے آ گئے اور آس پاس تمام مناظر کھل گئے. ذرا دور نظر آتی گنگا نے اپنے مزید حجاب اتار دیے. پوری ٹیم دیوانہ وار ان قالینوں پر ننگے پاؤں چلنے دوڑنے لگی.

اوپر گائیں اور بکریاں چر رہی تھیں. عین ٹاپ پر ایک خیمہ سا تھا جہاں سے کتوں کی آوازیں آ رہی تھیں… مطلب بھونکنے کی. ڈاکٹر شریف کے مطابق کتے دو قسم کے ہوتے ہیں.. ایک وہ جو کاٹتے ہیں اور دوسرے وہ جو مسکین مسکین سے لگتے ہیں، اُنہیں “لُوسی” کہتے ہیں. اب یہ لفظ لُوسی کسی بھی ایسی شے کے ساتھ لگ سکتا ہے.

ہم قالینوں کے پار گئے تو دیکھا کہ نشیب میں ایک کرکٹ گراؤنڈ ہے. ایسی گراؤنڈ دیکھ کر مزہ ہی آ گیا. گراؤنڈ میں چلتے چلتے ہم ایک اور قریبی پہاڑی کے اوپر جا کر بیٹھ گئے. وہاں سے گنگا مزید ہوشربا لگ رہی تھی… اس شام ہم صرف گُھس بیٹھیے تھے.. جگہ جگہ بیٹھ رہے تھے.. تصویر کشی کر رہے تھے.. اور سرائیکی لہجوں کو انجوائے کر رہے تھے… سائیں، یہ کدھر آ ونجے آں….

اس چراگاہ کا نام “کوبرا ٹاپ” ہے.. ویسے مقامی اسے کوپرا ٹاپ کہتے ہیں، پ کی بجائے ب میری بدعت ہے.. اور ہم ہیں مشہور، بدعت بازی میں.
•••

رات آٹھ بجے ہم نے ریسٹ ہاؤس کے ڈائننگ ایریا میں چکن کڑاہی بمع پیپسی تناول فرمائی… اور رات گئے ساڑھے نو بجے سونے کے لیے لیٹ گئے. ہم نے ایک میٹرس منگوا لیا تھا. میرے پاس ذاتی کیمپنگ کا سامان تھا، وہی فرش پر بچھا کر لیٹ رہا….. مگر نیند کہاں آ رہی تھی.

مَیں اٹھا اور کمرے سے باہر آ کر لاؤنج میں “پیار کا پہلا پنجاب” پڑھنے لگا. گیارہ بجے کا ٹائم ہو گا.. لایٹ چلی گئی. مَیں نے کتاب بند کی اور ریسٹ ہاؤس کا دروازہ کھول کر باہر جا کھڑا ہوا. تاروں بھرا آسمان تھا.. اور اس سے پہلے کہ مزید کچھ نظر آتا، ایک وَف کی آواز آئی. فوراً اندر دوڑا کہ کیا پتا اس وقت کُتے لُوسی نہ ہوں. بہت غصہ آیا کہ مسافرِشَب کو شَب سے دور رکھا جا رہا ہے..

..حریفوں کی چالوں سے غافل نہ ہو
..کٹھن وادیوں میں حریفانہ چل

اتنی دیر میں خرم بھائی بھی لاؤنج میں آ گئے. اندھیرے میں ہم نے بہت سی باتیں کیں. مَیں نے انہیں کائنات کتاب کی کہانی سنائی کہ وہ کیسے لکھی گئی.. اور وہ ایسی کہانی ہے جو لکھے جانے کے قابل ہے.. انشاءاللہ الگ سے لکھوں گا.
•••

رات کسی وقت آنکھ کھلی تو دیکھا کہ……. ایک کھڑکی میں چیڑ کے درختوں سے اوپر شیردریا کی صورت رنگین آکاش گنگا کہکشاں طاری ہے..

دوسری کھڑکی میں دیکھا کہ تاروں بھرے آسمان کے پس منظر میں شدید سیاہ گنگا چوٹی نظر آ رہی ہے…. شدید پرنُور سیاہ……

اور یہ ایک کالا کلوٹا چہرا ہے جیسے پھٹکار پڑی ہو.. مگر ایسی کوئی بات نہیں. یہ پھٹکار ہرگز نہیں، وصالِ یار کا نُور ہے. اور نُور ہمیشہ سیاہ رنگ ہوتا ہے.. کسی مجنوں سے پوچھیے.

..جنوں میں قَیس بہ صحرا کا بھی جواب نہیں
..تو لاجوابیٔ لیلیٰ کا بھی جواب نہیں
•••

مصنف کے بارے میں

محمد احسن

میرا نام محمد احسن ہے اور مجھے مُسافرِشَب بھی کہا جاتا ہے اگرچہ میرے سفر زیادہ تر دِن میں سرانجام پاتے ہیں.. کہہ سکتے ہیں کوا اندھیری رات میں دِن بھر اُڑا کیا.. ویسے تو مجھے بھی یقین نہیں آتا کہ میری مذکورہ ذیل تعلیم و تربیت ہے —- بطور سفرنامہ نگار میرے تین سفرنامے شائع ہو چکے ہیں – دیوسائی میں ایک رات، چولستان میں ایک رات، انگلستان کے سو رنگ —- بطور مترجم میرے دو تراجم شائع ہو چکے ہیں – سر آئزک نیوٹن، مارک ذکربرگ فیس بک کا بانی —– بطور اون لائن رائیٹر میرے سینکڑوں رائٹ اَپس موجود ہیں جو میری فیس بک پروفائل پر پڑھے جا سکتے ہیں —– تعلیم ماسٹر اوف کمپیوٹر سائنس، مائیکروسوفٹ سرٹیفائیڈ سسٹم انجینیئر، پوسٹ گریجویٹ اوف کمپیوٹر سائنس، ماہرِ فلکیات فروم مانچسٹر یونیورسٹی، ماہرِ موسیقی فروم سکول اوف ساؤنڈ ریکارڈنگ انگلینڈ، سائنس ریسرچر کالم نگار ویکلی مانچسٹر —– تجربات میں گرافک ڈیزائنر (ویب) عرصہ 7 برس، بڑا استاد اوف براق سائنس انسٹیٹیوٹ، اور ٹریول اوپریٹر وغیرہ وغیرہ، مزید وغیرہ……. اِن مندرجات پر یقین کر لیں تو مہربانی ہو گی ۔۔

قراقرم کہانی کے لیے لکھیے

Contact Us

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search