کراچی سے فیئری میڈوز تک

Published By Mobeen Mazhar

نصف صدی کا تو نہیں لیکن 20 برس پہلے کا قصہ تو ہے ہی جب میں تن تنہا اکیلی جان، حیران و پریشان، کراچی کا نوجوان، فیئری میڈوز میں براجمان، سرسبز گھاس کے میدان، نانگا پربت کی برفیلی ڈھلوان، پرندوں کی نیچی اڑان، موسم انجان، بارش کے طوفان، دھوپ میں تپتی پتھریلی چٹان، بدن میں تھکان اور جذبوں میں اٹھان لئے وہاں پھرتا تھا…. اپریل 2016 میں 20 سال بعد پھر اک بار تین ہمنواؤں کے ہمراہ کراچی سے فیئری میڈوز تک کا قصد کیا ۔۔۔

لیکن ہمارے سفر کا آغاز ہی پنگوں سے ہوا اور کراچی سے کوئی 350 کلومیٹر دور ہماری گاڑی ایک چکنے سے ٹرک کو دیکھ کر ٹهرک گئی اور پھسل کر سرعام بوس و کنار کی مرتکب ہوئی، نتیجہ، گاڑی کی تباہی.. خیر ہم نے ہمت نہیں ہاری اور متبادل پلان کے تحت سب سے پہلے تو گاڑی کو واپس کراچی پہنچایا، واپسی کے رستے میں ٹرپ کی واٹ لگنے کی وجہ سے سب کی شکلیں اتری ہوئی تھیں، بلکہ اتری ہوئی بھی ایسی کہ گویا سڑک پر جھاڑو پھیر رہی تھیں…. اسی دوران ہم نے سوچا کہ جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا اب اس ٹرپ کو کیسے بچایا جاۓ !!

فیصلہ ہوا کہ کراچی واپس پہنچنے کے بعد آج ہی کسی اور ذریعہ سے پھر سے سفر شروع کرتے ہیں. اس حوالے سے سب سے پہلے جہازوں کو کھنگالا، پھر ٹرینوں کو کریدا لیکن گوہرِ مقصود نہ پایا. بس پهر بے بسی کے عالم میں بس کے سفر کو آخری آپشن  سمجھتے ہوۓ گھر پہنچنے سے پہلے ہی ڈیوو کی بس کے ٹکٹ حاصل کیے اور رات 10 بجے راولپنڈی روانہ ہو گئے۔

بس کے 26 گھنٹوں کے طویل صبرآزما سفر کے بعد جب ہم پنڈی میں اترے تو ہماری پشتوں پر بس کی سیٹوں کے مکمّل سانچے وجود میں آچکے تھے جن میں ڈھال کر کئی نئی سیٹیں بنائی جاسکتی تھیں ۔۔۔

پنڈی پہنچنے سے پہلے ہی ہم نے اک کرایے کی گاڑی کا انتظام کر لیا تھا جس کے ذریعہ اگلی صبح رائیکوٹ کے لئے روانہ ہو گئے۔ ان دنوں شاہراہ ریشم بارشوں کے بعد تباہی و بربادی کی تصویر بنی ہوئی تھی اور “شاہراہ کھدّر” کہلانے کے لائق تھی.

خیر پورے دن کا انگریزی اور اردو دونوں والا “سفر” کرتے ہوۓ رات کے ایک بجے رائیکوٹ کے پل پر وارد ہوۓ. وہاں جا کر پتا چلا کہ ہم توسیزن کے پہلے نمونے ہیں جو یہاں پہنچے ہیں اور ہوٹل نام کی کوئی چیز نہیں کھلی ہے ہمارے لئے. وہ تو الله بھلا کرے ہمارے ڈرائیور کا، جو کہ اک مقامی ہی تھا، کہ اس نے رات کے اس پہر ڈھونڈ ڈھانڈ کر کسی خفیہ گوشے سے دو بندے برآمد کر لئے جو کہ فیری میڈوز کے راستے میں جیب چلاتے تھے.

رات ٹھہرنے کا کوئی آسرا نہ ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ ہوا کہ اسی وقت جیپ میں فیئری میڈوز ٹریک پر سفر کرتے ہوۓ تاتو گاؤں پہنچا جاۓ اور صبح سورج نکلنے کے بعد فیری میڈوز کا پیدل سفر کیا جاۓ.

Fairy Meadows Trek Nanga Parbat Pakistan

 (Karachi to Fairy Meadows Trek – Nanga Parbat, Pakistan) فیئری میڈوز ٹریک – نانگا پربت، پاکستان
عکاسی: ماجد حسین

مرتےکیا نہ کرتے…. اندھیرے میں مخدوش راستہ ٹٹولتے اور پھڑکتا دل سنبھالتے ہوۓ صبح 4 بجے تاتو گاؤں پہنچے (اس جیپ کے سفر کی ویڈیو میں نے قراقرم کلب پیج میں پہلے پوسٹ کی تھی) اور ڈرائیور کے گھر کے مہمان خانے میں عارضی طور پر انتقال کر گئے. 3 دنوں کی عظیم الشان تھکاوٹ کے بعد 3 گھنٹوں کی پرتکلف نیند لے کر صبح 7:30 بجے ناشتے سے فارغ ہو کر پھر مارومار کرتے عازم فیئری میڈوز ہوۓ. گزشتہ 3 دنوں کی تھکن کے باعث سست رفتاری سے سفر کرتے اور راستے میں چیونٹیوں کو بھی رستہ دیتے ہوۓ شام تک منزل مقصود تک پہنچے، نانگا پربت سے بیس سالہ دَور فرقت کے خاتمے پر شب وصال منانے کے لئے۔
•••

مصنف کے بارے میں

ماجد حسین

ماجد قراقرم کلب کے سرگرم رکن ہیں اور پیشہ ور اکاؤنٹنٹ، طبیعتا سیلانی اور شوقیہ فوٹوگرافر بھی ہیں. کچھ لکھنے پڑھنے سے بھی  شغف ہے. گو کہ جسمانی طور پر کراچی میں رہتے ہیں لیکن روحانی طور پر پہاڑوں میں بسیرا ہے

قراقرم کہانی کے لیے لکھیے

Contact Us

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search