شیوسر دیوسائی اور شہنشاہ نانگاپربت

Published By Mobeen Mazhar

زمانہ اگست 2017
™تحریر و عکاسی: مسافرِشَب

ہم نے راما میڈوز (Rama Meadows) میں کیمپنگ کی اور اگلے دن راما جھیل (Rama Lake) میں نانگاپربت (Nanga Parbat) کا عکس دیکھا۔

Rama Lake - Astore Valley, Pakistan

مقام: راما جھیل – وادیِ استور، پاکستان

عکاس: مسافرِشَب

اسی دن ہم نے اعلیٰ و ارفع سطح مرتفع دیوسائی کا سفر اختیار کیا جو قریب ہی ہے.. یہی کوئی 4 سے 5 گھنٹے کی ڈرائیو پر۔ ہم چلم کی جانب سے بلند ہوئے اور رضائے الٰہی سے 14 ہزار فٹ بلند شیوسر پاس کو عبور کیا جو باقی دیوسائی کے مقابلے میں کافی بلندی پر واقع ہے۔ شیوسر پاس کے فوراً بعد ہیرِ نانگاپربت شیوسر جھیل موجود ہے۔ یہیں ہماری کیمپ نائٹ تھی… بڑا مزہ آنے والا تھا۔ دیوسائی اس دنیا سے الگ تھلگ کوئی جگہ ہے جہاں پچاس پچاس کلومیٹرز تک کوئی درخت نہیں.. صرف تین چیزیں ہیں.. پھول، بادل اور ریچھ۔

شیوسر جھیل کے پانیوں کو ایک سائیڈ سے عبور کیا۔ دوسری جانب ہماری کیمپ سائیٹ تھی جہاں ایک وسیع و عریض خیمہ ہمارا منتظر تھا۔ اسے سردار حسین کی کیمپنگ بھی کہتے ہیں۔ ہم 8 لوگ بآسانی اس خیمہ میں سما گئے جو ایک اڑن طشتری جیسا تھا۔ کچھ دیر میں بارش شروع ہو گئی، معمولی بارش نہیں، دیوسائی کی بارش، کہ جس کا قطرہ قطرہ سرد گولیوں کی مانند چھید ڈالتا ہے۔ اوف کورس سردی بڑھ گئی۔ ہوا تیز ہو گئی، جیسے عشق بے قابو ہوتا ہے۔ اور ٹیم کراچی کی تھی۔ آگے آپ خاصے سمجھدار ہیں۔

خیمہ کے اندر چند فٹ کی جگہ میں پوری ٹیم یوں دبک کر اور ایک دوسرے کے ساتھ لگ کر لیٹ بیٹھی کہ پچتر فیصد خیمہ خالی ہو گیا۔ یوں ایک دوسرے کی گرمی سے فائدہ اٹھایا جا رہا تھا۔ اینٹارکٹیکا میں پینگوئنز بھی یونہی ایک دوسرے سے لگ کر اپنا بچاؤ کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ ٹیم کو کچھ دلکش خیالات سوچنے پر مجبور کیا گیا تاکہ گرمی میں اضافہ ہو۔ مسافرِشَب ہر وقت ایسے خیالات کا سٹاک رکھتا ہے جو مناسب یا نامناسب اوقات میں کام آ جاتے ہیں۔

ایک ڈیڑھ گھنٹے میں بارش رک گئی۔ موسم کچھ نہ کچھ صاف ہو گیا۔ شام کی روشنی رفتہ رفتہ گم ہو رہی تھی۔ جھیل کے قریب ہم نے کچھ فوٹوگرافی کی۔ یک دم دُھند چھانے لگی۔ چند منٹ کے اندر جھیل دھند میں روپوش ہو چکی تھی۔

جیسے ہی رات شروع ہوئی، ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا اگرچہ شدید سردی کے باعث اُس سے صحیح طرح کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ جب ہم کچن ٹینٹ میں کھانا کھا رہے تھے تو وائلڈ لائف کا ایک افسر آن پہنچا اور بولا “ابھی ریچھ آیا تھا اور کیمپنگ کا ڈرم گرا کر چلا گیا ہے۔ ابھی دوبارہ بھی آئے گا۔”

“کونسا ریچھ؟.. بگ بوائے تو نہیں؟” مَیں نے پوچھ لیا۔

“آپ بگ بوائے کو کیسے جانتے ہو؟”

“مَیں دیوسائی پر کتاب لکھ چکا ہوں.. اس لیے۔”

“بڑا افسوس ہوا۔ غلط ملط لکھ دی ہو گی۔ ویسے بگ بوائے دیوسائی کا سب سے بڑا ریچھ ہے۔ ہر رات اِدھر آتا ہے اور ہمارے کچرے کے ڈرم گرا کر چلا جاتا ہے۔ ابھی دوبارہ آتا ہے تو دیکھیں گے۔ اتنی دیر ذرا گفتگو ہو جائے۔”

اُس وقت پورے دیوسائی میں وہ واحد حضرت انسان تھا جو حکومتِ وقت کا سپورٹر تھا۔ وہ حکومت کے ایسے ایسے گُن گا رہا تھا جس کے باعث ہم بہت دیر تک انجوائے کرتے رہے۔ وہ افسر دیوسائی میں فُل اینٹرٹینمنٹ کا سامان تھا۔ سیاسی گفتگو کے بعد وہ خیمے سے باہر نکلا.. موٹرسائیکل سٹارٹ کی اور ریچھ ڈھونڈنے نکل گیا۔ مَیں نے کہا “ریچھ کے پیچھے موٹرسائیکل لے کر گیا ہے۔ ریچھ یوں کیسے آئے گا؟.. ریچھ تو ایسے مزید دُور بھاگے گا۔” جس طرز کے اُس کے سیاسی خیالات تھے، اُس نے کہاں ماننا تھا کہ وہ غلط انداز میں ریچھ پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ہماری ٹیم رات گئے تک باہر نیم چاندنی میں ریچھ کا انتظار کرتی رہی اور وہ وائلڈ لائف افسر موٹرسائیکل پر پھٹ پھٹ پھٹ کرتا کبھی کہیں سے نکلتا اور کبھی کہیں چلا جاتا۔

جب ہم سب خیمے میں جا کر سو گئے.. وائلڈ لائف افسر اور سردار حسین کا عملہ بھی سو گیا.. تب بہت دیر بعد کچھ ڈرمز گرنے کی آواز آئی۔

صبح جیسے ہی فیضان بھائی نے خیمے کا پردہ پیچھے کیا، خیمے میں لیٹے ہوئے مجھے برف کی ایک دیوار نظر آئی۔ یقیناً وہ نانگاپربت تھا……..

اتنی بار تصاویر میں دیکھا تھا کہ شیوسر جھیل کے پار ایک برف کی بلند دیوار.. تیرا چہرا.. نانگاپربت ہوتا ہے۔ جب اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے دیکھا تو یہ منظر ناقابلِ یقین حد تک خوبصورت تھا… ابھی بھی ہماری سانسوں میں حنا کی خوشبو مہک رہی ہے۔

مَیں فوٹوز بنانے کے لیے قریبی پہاڑی کی ٹاپ تک چلا گیا۔ اس پہاڑی کو “سونیا پیک” کہتے ہیں۔ پہاڑی کی ٹاپ سے شیوسر جھیل اور نانگاپربت ذرا مزید کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ یہاں سے ہماری ہائی-روف بالکل ڈِنکی لگ رہی تھی۔ ڈِنکی سمجھتے ہیں؟ پستہ قد خاتون کو ڈِنکی کہتے ہیں۔ کیمپنگ سائیٹ بھی شدید ننھی منی تھی اور چلتے پھرتے ٹریکرز محض رینگتی چیونٹیاں لگ رہے تھے۔ چند ٹریکرز ذرا ڈیشنگ تھے.. انہیں آپ امریکن سُنڈیاں سمجھ لیں۔ سب سے عجیب بات یہ تھی کہ شیوسر کیمپنگ میں چار ہیلی پیڈز ساتھ ساتھ موجود تھے.. اگرچہ چار جائز تو ہیں مگر حیرت میں مبتلا کر رہے تھے۔

Sheosar Lake Campsite - Deosai Plains, Baltistan, Pakistan

 (Sheosar Lake – Deosai Plains, Pakistan) مقام: شیوسر جھیل کی کیمپ سائٹ – دیوسائ، بلتستان، پاکستان

عکاس: مسافرِشَب

 

 

وہیں مَیں نے ذرا نیچے ریچھ کی تازی پوٹی دیکھی.. ڈرنے کی بجائے الٹا مجھے بھی ضرورت پیش آ گئی۔ ریچھ والی کے قریب ہی پتھروں میں مَیں نے اپنی موجودگی ثبت کر دی…. میری اس حرکت کو نانگاپربت دیکھ رہا تھا۔ گھبرانے کی بات نہیں، وہ بھی تو “نانگا” ہے.. واہ۔

Deosai Plains - Baltistan, Pakistan

 (Deosai – Baltistan, Pakistan) مقام: دیوسائ – بلتستان، پاکستان

عکاس: مسافرِشَب

ہم نے ناشتہ کے بعد ٹھنڈی یعنی بدذوق ہو چکی ہائی-روف کو سٹارٹ کروایا.. جب وہ گرم ہو کر باذوق ہو گئی تو تب ہم نے دیوسائی کو کراس کیا۔ شیوسر کے مقابلہ میں بڑا پانی کیمپ سائیٹ قدرے بورنگ محسوس ہو رہی تھی۔ مگر جب یہاں اماوس کی رات طاری ہوتی ہے تو یہی کیمپ سائیٹ ایک خلائی سٹیشن میں بدل جاتی ہے۔ بڑا پانی کی دھیمی آواز اور اوپر آکاش گنگا کہکشاں…
•••

مصنف کے بارے میں

محمد احسن

میرا نام محمد احسن ہے اور مجھے مُسافرِشَب بھی کہا جاتا ہے اگرچہ میرے سفر زیادہ تر دِن میں سرانجام پاتے ہیں.. کہہ سکتے ہیں کوا اندھیری رات میں دِن بھر اُڑا کیا.. ویسے تو مجھے بھی یقین نہیں آتا کہ میری مذکورہ ذیل تعلیم و تربیت ہے —- بطور سفرنامہ نگار میرے تین سفرنامے شائع ہو چکے ہیں – دیوسائی میں ایک رات، چولستان میں ایک رات، انگلستان کے سو رنگ —- بطور مترجم میرے دو تراجم شائع ہو چکے ہیں – سر آئزک نیوٹن، مارک ذکربرگ فیس بک کا بانی —– بطور اون لائن رائیٹر میرے سینکڑوں رائٹ اَپس موجود ہیں جو میری فیس بک پروفائل پر پڑھے جا سکتے ہیں —– تعلیم ماسٹر اوف کمپیوٹر سائنس، مائیکروسوفٹ سرٹیفائیڈ سسٹم انجینیئر، پوسٹ گریجویٹ اوف کمپیوٹر سائنس، ماہرِ فلکیات فروم مانچسٹر یونیورسٹی، ماہرِ موسیقی فروم سکول اوف ساؤنڈ ریکارڈنگ انگلینڈ، سائنس ریسرچر کالم نگار ویکلی مانچسٹر —– تجربات میں گرافک ڈیزائنر (ویب) عرصہ 7 برس، بڑا استاد اوف براق سائنس انسٹیٹیوٹ، اور ٹریول اوپریٹر وغیرہ وغیرہ، مزید وغیرہ……. اِن مندرجات پر یقین کر لیں تو مہربانی ہو گی ۔۔

قراقرم کہانی کے لیے لکھیے

Contact Us

We're not around right now. But you can send us an email and we'll get back to you, asap.

Start typing and press Enter to search